المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
182. أبو قزعة سويد بن حجير، عن حكيم بن معاوية
ابوقزعہ، سوید بن حجیر، کی حکیم بن معاویہ سے روایات
حدیث نمبر: 17083
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَا: أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ" مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟، قَالَ: «يُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمَ، وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبُ الْوَجْهَ، وَلَا يَهْجُرُهَا إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب خود پہنے تو اسے بھی پہنائے، چہرے پر نہ مارے، اور صرف گھر ہی میں اس سے الگ رہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17083]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 425، حدیث 1034»
حدیث نمبر: 17084
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقْبَلُ اللهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى لَهُ فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَحْرِمَهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللهُ شُجَاعًا عَلَى صَاحِبِهِ يَنْهَشُهُ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى لَهُ فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ فَيَحْرِمَهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللهُ شُجَاعًا عَلَى صَاحِبِهِ يَنْهَشُهُ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اپنے اسلام کے بعد شرک کر بیٹھے۔“
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جا کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے محروم کر دے، تو اللہ اس مال کو ایک سانپ بنا دے گا جو اسی کو ڈسے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17084]
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جا کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے محروم کر دے، تو اللہ اس مال کو ایک سانپ بنا دے گا جو اسی کو ڈسے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17084]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 425، حدیث 1035»
حدیث نمبر: 17085
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا آتِيَكَ، فَبِالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا الَّذِي بَعَثَكَ اللهُ بِهِ؟، قَالَ: «بِالْإِسْلَامِ» ، قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟، قَالَ: «تُسَّلِمُ قَلْبَكَ لِلَّهِ، وَتَوِّجُهُ وَجْهَكَ إِلَى اللهِ، وَتُصَلِّي الصَّلَاةَ الْمَفْرُوضَةََ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ تَوْبَةَ عَبْدٍ أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُحْشَرُونَ هَهُنَا، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ، مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَعَلَى وُجُوهِكُمْ، تُعْرَضُونَ عَلَى اللهِ عَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، وَأَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُحْشَرُونَ هَهُنَا، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ، مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَعَلَى وُجُوهِكُمْ، تُعْرَضُونَ عَلَى اللهِ عَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، وَأَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس اس وقت تک نہیں آیا جب تک میں نے اپنی ان انگلیوں کی گنتی جتنی قسمیں نہیں کھا لیں کہ میں آپ کے پاس نہیں آؤں گا، تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اللہ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنا دل اللہ کے سپرد کر دو، اور اپنا رخ اللہ کی طرف کر لو، اور فرض نماز ادا کرو، اور فرض زکوٰۃ دو، (مسلمان آپس میں) دو بھائی اور مددگار ہیں، اللہ اس بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اپنے اسلام کے بعد شرک کر بیٹھے۔“
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم یہاں جمع کیے جاؤ گے“ - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا - ”پیدل، سوار اور اپنے چہروں کے بل، تمہیں اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے اس کی ران گواہی دے گی۔“
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17085]
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم یہاں جمع کیے جاؤ گے“ - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا - ”پیدل، سوار اور اپنے چہروں کے بل، تمہیں اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے اس کی ران گواہی دے گی۔“
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17085]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 426، حدیث 1036»
حدیث نمبر: 17086
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ الْبَاهِلِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَلَفْتُ عَدَدَ هَؤُلَاءِ، وَأَوْمَأَ إِلَى أَصَابِعِهِ، أَنِّي لَا أَتَّبِعُكَ وَلَا أَتَّبِعُ مَا جِئْتَ بِهِ، فَأَنْشُدُكَ اللهَ مَا دِينُكَ الَّذِي بَعَثَكَ اللهُ بِهِ؟، قَالَ: «بَعَثَنِي بِالْإِسْلَامِ» ، قُلْتُ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟، قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ نَفْسِي لِلَّهِ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ"
قُلْتُ: مَا حَقُّ أَزْوَاجِنَا عَلَيْنَا؟، قَالَ: «أَطْعِمْ إِذَا أُطْعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
ثُمَّ قَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ، وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ، مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ، تَأْتُونَ اللهَ يَوْمَ تَأْتُونَهُ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ، تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَمَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِلَّا أَتَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا يَلْمُظُ»
وَإِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَعَسَهُ اللهُ مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى مَضَى عِصَارٌ وَبَقِيَ عِصَارٌ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: أَيَّ رَجُلٍ كُنْتُ لَكُمْ؟، قَالُوا: خَيْرَ رَجُلٍ، قَالَ: لَأَنْزَعَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَيْتُكُمُوهُ أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَقَالُوا: كُلُّنَا نَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنَا، قَالَ: فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي فِي النَّارِ، فَإِذَا كُنْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمِ رِيحٍ، فَدَعَى اللهُ بِهِ كَمَا كَانَ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: مَخَافَتُكَ يَا رَبُّ، فَتَلَافِيهِ وَرَبِّي"
قُلْتُ: مَا حَقُّ أَزْوَاجِنَا عَلَيْنَا؟، قَالَ: «أَطْعِمْ إِذَا أُطْعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
ثُمَّ قَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ، وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ، مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ، تَأْتُونَ اللهَ يَوْمَ تَأْتُونَهُ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ، تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَمَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِلَّا أَتَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا يَلْمُظُ»
وَإِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَعَسَهُ اللهُ مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى مَضَى عِصَارٌ وَبَقِيَ عِصَارٌ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: أَيَّ رَجُلٍ كُنْتُ لَكُمْ؟، قَالُوا: خَيْرَ رَجُلٍ، قَالَ: لَأَنْزَعَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَيْتُكُمُوهُ أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَقَالُوا: كُلُّنَا نَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنَا، قَالَ: فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي فِي النَّارِ، فَإِذَا كُنْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمِ رِيحٍ، فَدَعَى اللهُ بِهِ كَمَا كَانَ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: مَخَافَتُكَ يَا رَبُّ، فَتَلَافِيهِ وَرَبِّي"
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے ان کی تعداد کے برابر قسمیں کھائی تھیں - اور انہوں نے اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کیا - کہ میں آپ کی پیروی نہیں کروں گا اور نہ ہی جو آپ لے کر آئے ہیں اس کی پیروی کروں گا، تو میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کا وہ دین کیا ہے جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کہو: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، (مسلمان آپس میں) دو بھائی اور مددگار ہیں، اللہ کسی ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اپنے اسلام کے بعد شرک کر بیٹھے۔“
میں نے عرض کیا: ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، جب خود پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں الگ رہو۔“
پھر فرمایا: ”تم یہاں جمع کیے جاؤ گے“ - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا - ”پیدل اور سوار حالت میں، اور تم اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے، تم جس دن اللہ کے پاس آؤ گے اس دن تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، تو تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی، تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جا کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے روک لے، تو قیامت کے دن وہ مال اس کے پاس ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا جو اپنے ہونٹ چاٹ رہا ہو گا۔
اور تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا، یہاں تک کہ اس کی عمر کا ایک حصہ گزر گیا اور ایک حصہ باقی رہا، تو جب اسے موت آئی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میں تمہارے لیے کیسا آدمی رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: بہترین آدمی۔ اس نے کہا: میں ضرور وہ سب کچھ واپس لے لوں گا جو میں نے تمہیں دیا تھا، الا یہ کہ تم وہی کرو جو میں تمہیں حکم دوں۔ انہوں نے کہا: ہم سب وہی کریں گے جس کا تم ہمیں حکم دو گے۔ اس نے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا، پھر مجھے کسی تیز ہوا والے دن اڑا دینا۔ پھر اللہ نے اسے ویسا ہی بلایا جیسا وہ تھا، اور فرمایا: تمہیں یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ تو میرے رب کی قسم! اللہ نے اس کی تلافی فرما دی (یعنی اسے بخش دیا)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17086]
میں نے عرض کیا: ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، جب خود پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں الگ رہو۔“
پھر فرمایا: ”تم یہاں جمع کیے جاؤ گے“ - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا - ”پیدل اور سوار حالت میں، اور تم اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے، تم جس دن اللہ کے پاس آؤ گے اس دن تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، تو تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی، تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جا کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے روک لے، تو قیامت کے دن وہ مال اس کے پاس ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا جو اپنے ہونٹ چاٹ رہا ہو گا۔
اور تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا، یہاں تک کہ اس کی عمر کا ایک حصہ گزر گیا اور ایک حصہ باقی رہا، تو جب اسے موت آئی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میں تمہارے لیے کیسا آدمی رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: بہترین آدمی۔ اس نے کہا: میں ضرور وہ سب کچھ واپس لے لوں گا جو میں نے تمہیں دیا تھا، الا یہ کہ تم وہی کرو جو میں تمہیں حکم دوں۔ انہوں نے کہا: ہم سب وہی کریں گے جس کا تم ہمیں حکم دو گے۔ اس نے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا، پھر مجھے کسی تیز ہوا والے دن اڑا دینا۔ پھر اللہ نے اسے ویسا ہی بلایا جیسا وہ تھا، اور فرمایا: تمہیں یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ تو میرے رب کی قسم! اللہ نے اس کی تلافی فرما دی (یعنی اسے بخش دیا)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17086]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 426، حدیث 1037»
حدیث نمبر: 17087
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟، قَالَ: «تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْهُ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ رُكْبَانًا وَمُشَاةً عَلَى وُجُوهِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، وَتُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ»
وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ رُكْبَانًا وَمُشَاةً عَلَى وُجُوهِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، وَتُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں اس سے الگ رہو۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم یہاں سوار اور پیدل حالت میں اپنے چہروں کے بل قیامت کے دن جمع کیے جاؤ گے، اس حال میں کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17087]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”تم یہاں سوار اور پیدل حالت میں اپنے چہروں کے بل قیامت کے دن جمع کیے جاؤ گے، اس حال میں کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17087]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 427، حدیث 1038»
حدیث نمبر: 17088
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟، قَالَ: «يُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمَ، وَيَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبُ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحُ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي بَيْتِكَ»
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب خود پہنے تو اسے بھی پہنائے، چہرے پر نہ مارے، برا بھلا نہ کہے، اور اپنے گھر ہی میں اس سے الگ رہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17088]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 428، حدیث 1039»