🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
182. أبو قزعة سويد بن حجير، عن حكيم بن معاوية
ابوقزعہ، سوید بن حجیر، کی حکیم بن معاویہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17086
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ الْبَاهِلِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَلَفْتُ عَدَدَ هَؤُلَاءِ، وَأَوْمَأَ إِلَى أَصَابِعِهِ، أَنِّي لَا أَتَّبِعُكَ وَلَا أَتَّبِعُ مَا جِئْتَ بِهِ، فَأَنْشُدُكَ اللهَ مَا دِينُكَ الَّذِي بَعَثَكَ اللهُ بِهِ؟، قَالَ: «بَعَثَنِي بِالْإِسْلَامِ» ، قُلْتُ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟، قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ نَفْسِي لِلَّهِ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ"
قُلْتُ: مَا حَقُّ أَزْوَاجِنَا عَلَيْنَا؟، قَالَ: «أَطْعِمْ إِذَا أُطْعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»
ثُمَّ قَالَ: «هَهُنَا تُحْشَرُونَ، وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّامِ، مُشَاةً وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ، تَأْتُونَ اللهَ يَوْمَ تَأْتُونَهُ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمُ الْفِدَامُ، فَيَكُونُ أَوَّلَ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ، تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ، وَمَا مِنْ مَوْلًى يَأْتِي مَوْلًى فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِلَّا أَتَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا يَلْمُظُ»
وَإِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَعَسَهُ اللهُ مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى مَضَى عِصَارٌ وَبَقِيَ عِصَارٌ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: أَيَّ رَجُلٍ كُنْتُ لَكُمْ؟، قَالُوا: خَيْرَ رَجُلٍ، قَالَ: لَأَنْزَعَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَيْتُكُمُوهُ أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَقَالُوا: كُلُّنَا نَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنَا، قَالَ: فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي فِي النَّارِ، فَإِذَا كُنْتُ فَحْمًا فَاسْحَقُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي يَوْمِ رِيحٍ، فَدَعَى اللهُ بِهِ كَمَا كَانَ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، قَالَ: مَخَافَتُكَ يَا رَبُّ، فَتَلَافِيهِ وَرَبِّي"
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے ان کی تعداد کے برابر قسمیں کھائی تھیں - اور انہوں نے اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کیا - کہ میں آپ کی پیروی نہیں کروں گا اور نہ ہی جو آپ لے کر آئے ہیں اس کی پیروی کروں گا، تو میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کا وہ دین کیا ہے جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم کہو: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، (مسلمان آپس میں) دو بھائی اور مددگار ہیں، اللہ کسی ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اپنے اسلام کے بعد شرک کر بیٹھے۔“
میں نے عرض کیا: ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خود کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، جب خود پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں الگ رہو۔“
پھر فرمایا: ”تم یہاں جمع کیے جاؤ گے“ - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کیا - ”پیدل اور سوار حالت میں، اور تم اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے، تم جس دن اللہ کے پاس آؤ گے اس دن تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، تو تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز گواہی دے گی وہ اس کی ران ہو گی، تم ستر امتوں کی تعداد پوری کرتے ہو، تم ان سب میں سب سے آخری اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز ہو، اور جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جا کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے روک لے، تو قیامت کے دن وہ مال اس کے پاس ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا جو اپنے ہونٹ چاٹ رہا ہو گا۔
اور تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا جسے اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا، یہاں تک کہ اس کی عمر کا ایک حصہ گزر گیا اور ایک حصہ باقی رہا، تو جب اسے موت آئی تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میں تمہارے لیے کیسا آدمی رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: بہترین آدمی۔ اس نے کہا: میں ضرور وہ سب کچھ واپس لے لوں گا جو میں نے تمہیں دیا تھا، الا یہ کہ تم وہی کرو جو میں تمہیں حکم دوں۔ انہوں نے کہا: ہم سب وہی کریں گے جس کا تم ہمیں حکم دو گے۔ اس نے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر جب میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے پیس ڈالنا، پھر مجھے کسی تیز ہوا والے دن اڑا دینا۔ پھر اللہ نے اسے ویسا ہی بلایا جیسا وہ تھا، اور فرمایا: تمہیں یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ تو میرے رب کی قسم! اللہ نے اس کی تلافی فرما دی (یعنی اسے بخش دیا)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17086]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 426، حدیث 1037»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17086 in Urdu