الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4846. 4- باب قوله: الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ(5)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”آج تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا کھانا جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے، اور ایمان والی عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی (تمہارے لیے حلال ہیں) جب تم انہیں ان کے مہر دے دو، اس طرح کہ تم انہیں نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ ہی خفیہ آشنا بنانے والے؛ اور جو شخص ایمان کا انکار کرے تو یقیناً اس کا عمل برباد ہو گیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔“
حدیث نمبر: 12247
12247- عن عبدالله بن المغفل قال: أصبتُ جرابا من شحوم يوم خيبر، فالتزمتُه، فقلت: لا أعطي اليوم أحدًا من هذا شيئا، قال: فالتفتُّ فإذا برسول الله صلى الله عليه وسلم مبتسمًا.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في المغازي (4214)، ومسلم في الجهاد والسير (1772) كلاهما من حديث حميد بن هلال، عن عبدالله بن مغفل فذكره.واللفظ لمسلم.»
الحكم على الحديث: متفق عليه