السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. -- باب: التكرار في غسل اليدين
-- باب: دونوں ہاتھوں کو بار بار دھونے کا بیان
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ. وَثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھوں کو برتن میں نہ ڈبوئے بلکہ ان کو تین مرتبہ دھو لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت اسی کے ہم معنی ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 202]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت اسی کے ہم معنی ذکر کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 278»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 203
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرَى أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ". هَكَذَا قَالَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ". وَكَذَلِكَ قَالَهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا". وَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ أَبَا رَزِينٍ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی رات کو اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے بلکہ اس کو تین مرتبہ دھولے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“
(ب) ایک حدیث میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے۔“
(ج) اعمش والی روایت میں ”دو یا تین مرتبہ“ کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 203]
(ب) ایک حدیث میں ہے: ”جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے۔“
(ج) اعمش والی روایت میں ”دو یا تین مرتبہ“ کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 768»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 204
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
(الف) عیسیٰ بن یونس والی روایت بھی پچھلی روایت کی طرح ہے۔
(ب) ایک روایت میں ہے: ”جب تم سے کوئی نیند سے بیدار ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 204]
(ب) ایک روایت میں ہے: ”جب تم سے کوئی نیند سے بیدار ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 104»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ التَّاجِرُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ⦗٧٦⦘ قَالَ الْأَعْمَشُ رَفَعَهُ، قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، بلکہ اس کو تین مرتبہ دھو لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 238»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 206
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا؛ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، بلکہ اس کو تین مرتبہ دھو لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھوں نے رات کہاں گزاری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 278»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 207
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ". وَقَوْلُهُ:" مِنْهُ". تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
خالد سے منقول روایت میں چند الفاظ زائد ہیں، یعنی ”اس کے ہاتھوں نے کسی عضو پر رات کہاں گزاری ہے“۔
(ب) محمد بن ولید بسری ”منہ“ کی زیادتی میں متفرد ہیں۔
(ج) وہ ثقہ راوی ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 207]
(ب) محمد بن ولید بسری ”منہ“ کی زیادتی میں متفرد ہیں۔
(ج) وہ ثقہ راوی ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 10»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ أَوْ أَيْنَ كَانَتْ تَطُوفُ يَدُهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے بلکہ اس کو تین مرتبہ دھولے، اس لیے کہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے یا اس کا ہاتھ کہاں گھومتا رہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 105»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 209
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَجَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرَى أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ أَوْ أَيْنَ طَافَتْ يَدُهُ". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا، ⦗٧٧⦘ فَحَصَبَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ حَوْضًا؟ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ. كَذَا قَالَ الشَّيْخُ؛ لِأَنَّ جَابِرَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ مَعَ ابْنِ لَهِيعَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، بلکہ اس کو تین مرتبہ دھو لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے یا اس کا ہاتھ کہاں گھومتا رہا ہے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے عرض کیا: اگرچہ حوض ہی ہو؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو کنکری ماری اور فرمایا: میں تجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو کہہ رہا ہے کہ اگرچہ حوض ہی ہو۔
علی بن عمر کہتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ جابر بن اسماعیل ابن لہیعہ کے ساتھ اس کی سند میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 209]
علی بن عمر کہتے ہیں کہ اس کی اسناد حسن ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ جابر بن اسماعیل ابن لہیعہ کے ساتھ اس کی سند میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/49»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا النُّعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا". قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِلنُّعْمَانِ وَمَا اسْتَوْكَفَ؟ قَالَ: غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَقَدْ أَقَامَ آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ إِسْنَادَهُ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى شُعْبَةَ.
(الف) اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہتھیلیاں بھریں۔
(ب) شعبہ کہتے ہیں: میں نے نعمان سے پوچھا: ہتھیلیاں بھرنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا۔
(ج) آدم بن ابی ایاس نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے، اس کی سند میں صرف شعبہ پر اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 210]
(ب) شعبہ کہتے ہیں: میں نے نعمان سے پوچھا: ہتھیلیاں بھرنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا۔
(ج) آدم بن ابی ایاس نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے، اس کی سند میں صرف شعبہ پر اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه احمد 4/9»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 211
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا آدَمُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ يَا أَبَا جُبَيْرٍ". فَبَدَأَ أَبُو جُبَيْرٍ بِفِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبْتَدِئْ بِفِيكِ يَا أَبَا جُبَيْرٍ، فَإِنَّ الْكَافِرَ يَبْتَدِئُ بِفِيهِ". ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ".
عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر اپنے والد جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”ابو جبیر! وضو کرو۔“ انہوں نے اپنے منہ سے شروع کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جبیر! منہ سے شروع نہ کرو، اس لیے کہ کافر بھی اپنے منہ سے شروع کرتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھو کر صاف کیا، پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا اور تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا اور تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ کو کہنیوں سمیت دھویا اور بائیں بازو کو بھی تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے پاؤں کو دھویا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 211]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان 1089»
الحكم على الحديث: صحيح