🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

44. -- باب: صفة غسلهما
-- باب: دونوں ہاتھوں کو دھونے کے طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٧٨⦘ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرَى فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْمَاءِ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ان پر تین مرتبہ پانی ڈالے، اس لیے کہ اس کو کیا معلوم کہ اس کے ہاتھ نے رات کیسے گزاری ہے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (ایک دوسری) روایت میں ہے کہ ”وہ اپنے ہاتھ پر پانی بہائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 88»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى عَلِيٌّ الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحَبَةَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَمِينِهِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا جَمِيعًا، ثُمَّ أَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَمِينِهِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا جَمِيعًا، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي آخِرِهِ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا كَانَ طُهُورَهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز پڑھی، پھر آپ کھلی جگہ تشریف لے گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، آپ نے پانی منگوایا تو ایک بچہ پانی والا برتن لے کر آیا۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے برتن کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر ان دونوں کو اکٹھا دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر ان دونوں کو اکٹھا دھویا اور اپنی ہتھیلیوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا۔۔۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس شخص کو اچھا لگتا ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 111»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنا عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا إِلَى الْكُوعَيْنِ. قَالَ: ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا. قَالَ: ومَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، وَقَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْغُسْلُ عِنْدَنَا سُنَّةٌ وَاخْتِيَارٌ لَيْسَ بِوَاجِبٍ وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ، وَابْنُ سِيرِينَ، وَأَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، آپ نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر ان دونوں کو گٹوں تک دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا، پھر وضو میں تین مرتبہ اعضاء دھونے کا ذکر کیا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: اعضاء کو اس طرح دھونا سنت یا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ یہی موقف عطاء، ابن سیرین اور اصحابِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه اجدًا داؤد 109»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ الْمَاءَ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ". قَالَ: فَقَالَ لَهُ قَيْسٌ الْأَشْجَعِيُّ: فَإِذَا جِئْنَا مِهْرَاسَكُمْ هَذَا فَكَيْفَ ⦗٧٩⦘ نَصْنَعُ بِهِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ:" الْمِهْرَاسُ حَجَرٌ مَنْقُورٍ مُسْتَطِيلٌ عَظِيمٌ كَالْحَوْضِ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ النَّاسُ، لَا يَقْدِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى تَحْرِيكِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے تو اپنے ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی بہا لے۔“ قیس اشجعی نے ان سے کہا: ”جب ہم آپ کے اس مہراس (پتھر کے حوض) پر آئیں تو اس کے ساتھ کیا کریں؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“
ابو عبید کہتے ہیں کہ اصمعی نے کہا: مہراس ایک بہت بڑا، لمبا، کھدا ہوا پتھر ہوتا ہے جو حوض کی طرح ہوتا ہے، لوگ اس سے وضو کرتے ہیں، تم میں سے کوئی اسے ہلانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو يعلٰي 5963»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَ يَدَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" قَالَ سُلَيْمَانُ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ: فكَيْفَ يَصْنَعُ أَبُو هُرَيْرَةَ بِالْمِهْرَاسِ؟ فَقَالَ سُلَيْمَانُ:" فَكَانُوا لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُدْخِلَهَا إِذَا كَانَتْ نَظِيفَةً". وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِحَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ عِنْدَ الطَّعَامِ بَعْدَمَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ. وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِي ذَلِكَ بِحَدِيثِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل نہ کرے جب تک کہ انہیں دھو نہ لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“
(ب) سلیمان کہتے ہیں کہ ابراہیم سے بیان کیا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں کیا کیا کرتے تھے؟ سلیمان نے کہا: جب ان کے ہاتھ صاف ہوتے تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حاجت سے فارغ ہوتے تو کھانے کے لیے وضو نہیں کرتے تھے۔
(د) شیخ کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً منقول ہے، سے دلیل لی ہے، اس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 216]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1052»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں