السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. -- باب: إدخال اليمين في الإناء والغرف بها للمضمضة والاستنشاق
-- باب: دایاں ہاتھ برتن میں ڈالنے اور اس سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے چلو بھرنے کا بیان
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، أنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْوَضُوءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُحَدِّثْ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر ان دونوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو اپنی کہنیوں سمیت دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، [اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:] ”جس شخص نے میرے وضو جیسا وضو کیا، اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے دل میں کوئی برا خیال پیدا نہیں ہوا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1162»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 218
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ ⦗٨٠⦘ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي الرِّجْلِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ.
اس حدیث میں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کے الفاظ زیادہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، أنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُونَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
عطاء بن یزید رحمہ اللہ نے پچھلی روایت کے ہم معنی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 162»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَا: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، دَعَا بِوَضُوءٍ فَأفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، پھر برتن سے پانی اپنے ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ میرے اس وضو کی طرح وضو کیا کرتے تھے، پھر فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو کی طرح کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں، اس کے دل میں کوئی برا خیال پیدا نہیں ہوا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 162»
الحكم على الحديث: صحيح