🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

151. -- باب: في مس الإبط
-- باب: بغل کو چھونے کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 655
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ يَسْأَلُ سُفْيَان يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، فَقَالَ سُفْيَانُ حَضَرْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَتَى الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ النَّاسَ يُنْكِرُونَ عَلَيْكَ حَدِيثَيْنِ قَالَ: وَمَا هُمَا؟ فَقَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ. فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ فِي مَسِّ الْإِبْطِ، فَكَأَنَّ الزُّهْرِيَّ كَفَّ عَنْهُ كَالْمُنْكِرِ لَهُ أَوْ أَنْكَرَهُ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ فَأَخْبَرْتُهُ وَقَدْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَمْرٌو: بَلْ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الْإِبْطِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ مَسِّ الْإِبْطِ مُرْسَلٌ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَقَدْ أَنْكَرَهُ الزُّهْرِيُّ بَعْدَمَا حَدَّثَ بِهِ وَقَدْ يَكُونُ أَمَرَ بِغَسْلِ الْيَدِ مِنْهُ تَنْظِيفًا، وَاللهُ أَعْلَمُ" وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ يُخَالِفُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فِي ذَلِكَ.
ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ سے سنا کہ انہوں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، یعنی: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔“ سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: میں اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا، وہ زہری رحمہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! لوگ آپ کی دو حدیثوں کا انکار کرتے ہیں! انہوں نے پوچھا: وہ کون سی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے کندھوں تک تیمم کیا۔“
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔“ اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبید اللہ کی حدیث میں بغلوں کو چھونے کا ذکر ہے۔
عبید اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو بغلیں چھونے کی بنا پر وضو کرنے کا حکم دیا۔
بغلوں کو چھونے والی حدیث مرسل ہے، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا اور زہری رحمہ اللہ نے اسے بیان کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیا تھا۔
بسا اوقات ہاتھ دھونے کا حکم صفائی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحميدي في سنده 143»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ وَمَسَّ إِبْطَهُ أَعَادَ الْوُضُوءَ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ⦗٢١٨⦘ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا يُوَافِقُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس پر اعادہ ضروری نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ" أَدْخَلَ يَدَهُ فِي إِبْطِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ مَضَى فِي صَلَاتِهِ".
یحییٰ بکاء کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنا ہاتھ نماز کی حالت میں بغلوں میں داخل کیا، پھر بھی اپنی نماز جاری رکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 657]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" كَانَ يَتَوَضَّأُ فِي الْحَرِّ وَيُمِرُّ يَدَيْهِ عَلَى إِبْطَيْهِ، وَلَا يَنْقَضُ ذَلِكَ وُضُوءَهُ" وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالُوا: لَيْسَ فِي مَسِّ الْإِبْطِ وُضُوءٌ، يَقُولُهُ ابْنُ وَهْبٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ مِنَ التَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَإِيَّاهُمْ.
(الف) نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گرمی میں وضو کرتے تھے اور اپنا ہاتھ بغلوں پر پھیرتے تھے اور اس سے ان کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔
(ب) یحییٰ بن سعید انصاری، یزید بن ابی حبیب، لیث بن سعد اور مالک بن انس رحمہم اللہ کہتے ہیں: بغلوں کو چھونے سے وضو نہیں ہے، یہ بات ابن وہب رحمہ اللہ نے نقل کی ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ امام حسن بصری رحمہ اللہ اور حارث عکلی رحمہ اللہ تابعی کا قول ہے۔ یہ موقف امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں