السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. -- باب: في مس الأنجاس الرطبة
-- باب: تر (گیلی) نجاستوں کو چھونے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 659
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ جَدَّتِي أَسْمَاءَ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ:" حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ" زَادُ أَبُو سَعِيدٍ، فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ:" فَإِذَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَمِ الْحَيْضِ أَنْ يُغْسَلَ بِالْيَدِ، وَلَمْ يَأْمُرْ بِالْوُضُوءِ مِنْهُ، وَالدَّمُ أَنْجَسُ فَكُلُّ مَا لُمِسَ مِنْ نَجِسٍ مَا كَانَ قِيَاسًا عَلَيْهِ بِأَنْ لَا يَكُونَ مِنْهُ وُضُوءٌ، وَإِذَا كَانَ هَذَا فِي النَّجِسِ، فَمَا لَيْسَ بِنَجِسٍ أَوْلَى أَنْ لَا يُوجِبَ وُضُوءًا، إِلَّا مَا جَاءَ فِيهِ الْخَبَرُ بِعَيْنِهِ".
فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ انھوں نے اپنی دادی اسماء رضی اللہ عنہا سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے متعلق سوال کیا اگر کپڑے کو لگ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھرچ دو۔ پھر پانی سے مسل کر چھینٹے مارو، پھر اس میں نماز پڑھ لو۔“ (ب) ابو سعید نے اپنی روایت میں مزید بیان کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے خون کو ہاتھ سے دھونے کا حکم دیا، لیکن اس سے وضو کرنے کا حکم نہیں دیا حالاں کہ خون ذکر سے زیادہ نجس ہے۔ ہر نجاست جس کو چھوا جا سکتا ہے تو اس سے وضو نہیں ہے، لہٰذا جو نجاست ہی نہیں ہے اس سے بدرجہ اولیٰ وضو واجب نہیں ہوتا مگر جس میں صریح حدیث آگئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح