السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
517. -- باب: من ركع دون الصف وفي ذلك دليل على إدراك الركعة ولولا ذلك لما تكلفوه
-- باب: جس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کر لیا اور اس میں رکعت پا لینے کی دلیل ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس کی زحمت نہ اٹھاتے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلْ إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هَمَّامٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ" لَا تَعُدْ" يُشْبِهُ قَوْلَهُ:" لَا تَأْتُوا لِلصَّلَاةِ تَسْعَوْنَ" يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَرْكَعَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى مَوْقِفِكَ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنَ التَّعَبِ، كَمَا لَيْسَ عَلَيْكَ أَنْ تَسْعَى إِذَا سَمِعْتَ الْإِقَامَةَ".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جا چکے تھے۔ انہوں نے بھی صف میں ملنے سے پہلے رکوع کرلیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے بعد) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری (نماز میں) حرص کو بڑھائے۔ دوبارہ اس طرح نہ کرنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «لَا تَعُدْ» آپ کے اس قول کی طرح ہے «لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ تَسْعَوْنَ» ”تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ۔“ یعنی تجھے رکوع کرنا ضروری نہیں جب تک تو صف میں اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ اس میں مشقت ہے۔ جیسا کہ جب تو اقامت سن لے تو تجھے دوڑنا لازمی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2584]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «لَا تَعُدْ» آپ کے اس قول کی طرح ہے «لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ تَسْعَوْنَ» ”تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ۔“ یعنی تجھے رکوع کرنا ضروری نہیں جب تک تو صف میں اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ اس میں مشقت ہے۔ جیسا کہ جب تو اقامت سن لے تو تجھے دوڑنا لازمی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ امام بخاريa ني موسيٰ بن اسماعيل عن همام روايت كي هي۔ اخرجه مالك في الموطا 285»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2585
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" دَخَلَا الْمَسْجِدَ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَا، ثُمَّ دَبَّا وَهُمَا رَاكِعَانِ حَتَّى لَحِقَا بِالصَّفِّ".
ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما دونوں مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، ان دونوں نے فوراً رکوع کیا، پھر رکوع کی حالت میں ہی چلتے ہوئے صف کے ساتھ جا کر مل گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2585]
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ رَأَى زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" دَخَلَ الْمَسْجِدَ ⦗١٣٠⦘ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَمَشَى حَتَّى أَمْكَنَهُ أَنْ يَصِلَ الصَّفَّ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَ فَرَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى وَصَلَ الصَّفَّ".
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا، وہ چلتے رہے یہاں تک کہ ان کے لیے رکوع کی حالت میں صف تک پہنچنا ممکن ہو گیا تو تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے، پھر رکوع کی حالت میں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا393»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ فَكَبَّرَ عَبْدُ اللهِ وَرَكَعَ وَرَكَعَتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ حِينَ رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ وَأَنَا أَرَى أَنِّي لَمْ أُدْرِكْ فَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ بِيَدِي وَأَجْلَسَنِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ" وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
زید بن وہب سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے مسجد کی طرف آیا۔ جب ہم مسجد کے درمیان پہنچے تو امام نے رکوع کیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، میں نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا۔ پھر ہم حالتِ رکوع میں ہی چلے حتیٰ کہ جس وقت لوگوں نے اپنے سر اٹھائے ہم صف تک جا پہنچے۔ جب امام نے نماز مکمل کر کے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا؛ کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں نے رکعت نہیں پائی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بٹھا دیا۔ پھر فرمایا: تم نے رکعت پا لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 2622»
الحكم على الحديث: صحيح