🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

518. -- باب: من كبر تكبيرة واحدة للافتتاح وركع ومن استحب أن يكبر أخرى للركوع
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز شروع کرنے کے لیے ایک ہی تکبیر کہی اور رکوع کر لیا، اور اس شخص کا بیان جس نے رکوع کے لیے دوسری تکبیر کہنے کو مستحب سمجھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2588
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِذَا أَتَيَا الْإِمَامَ وَهُوَ رَاكِعٌ كَبَّرَا تَكْبِيرَةً وَيَرْكَعَانِ بِهَا".
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما تشریف لائے تو امام رکوع میں تھا، انہوں نے ایک ہی تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2588]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنُ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ" إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُكُوعٌ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ" قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي ذَاكَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ شُعَيْبٌ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَانَ عُرْوَةُ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَاه فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگ رکوع میں تھے، وہ قبلہ رُخ ہوئے، تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے، پھر رکوع کی حالت میں ہی دبے پاؤں چل کر صف سے جا ملے۔
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بھی اس طرح کرتے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2586»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: إِنَّ بَعْضَهُمْ أَخْبَرَنِي عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" إِنْ أَدْرَكَهُمْ رُكُوعًا أَوْ سُجُودًا أَوْ جُلُوسًا يُكَبِّرُ تَكْبِيرَتَيْنِ" فَقَالَ مَالِكٌ: أَمَّا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَذَلِكَ الْأَمْرُ ⦗١٣١⦘ الَّذِي نَعْرِفُهُ، وَأَمَّا تَكْبِيرَتَيْنِ لِلْجُلُوسِ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ هَذَا، قُلْتُ: يُكَبِّرُ وَاحِدَةً يَسْتَفْتِحُ بِهَا وَيَجْلِسُ بِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ" قَالَ الشَّيْخُ: إِنْ صَحَّ هَذَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ فِي السُّجُودِ فَكَبَّرَ لِلِافِتِتَاحِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الِافْتِتَاحِ رَفَعَ الْإِمَامُ بِتَكْبِيرَةٍ وَقَعَدَ فَيُوَافِقُهُ فِي أَذْكَارِهِ وَأَفْعَالِهِ، وَكَذَلِكَ فِي السُّجُودِ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ تَكْبِيرُ الْإِمَامِ لِلسُّجُودِ بَعْدَ افْتِتَاحِهِ لِلصَّلَاةِ وَاقْتِدَائِهِ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آدمی اگر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگوں کو رکوع، سجدے یا قعدے وغیرہ میں پائے تو دو تکبیریں کہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجدوں کے بارے میں تو ہم یہ حکم جانتے ہیں، لیکن جلسے وغیرہ کی حالت میں دو تکبیریں میرے علم میں نہیں۔ راوی نے پوچھا: کیا ایک ہی تکبیر سے نماز شروع کرے اور بیٹھ جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح ہو تو بھی یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایسا سجدوں میں مراد لیا ہو، یعنی انہوں نے نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر کہی ہو اور امام ایک تکبیر کہہ کر سجدے سے اٹھ کر بیٹھ گیا ہو تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ اپنے اذکار و افعال میں اس کی موافقت کرے۔
اور اسی طرح سجدے میں ہوا ہو گا، یعنی امام نے سجدے کے لیے تکبیر کہی ہو اور انہوں نے ایک تکبیر سے نماز شروع کر کے امام کی اقتدا کر لی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَهُمْ رُكُوعًا كَبَّرَ تَكْبِيرَتَيْنِ تَكْبِيرَةً لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ وَتَكْبِيرَةً لِلرُّكُوعِ وَقَدْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ".
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کو رکوع میں پائے تو وہ دو تکبیریں کہے، ایک نماز شروع کرنے کی اور دوسری رکوع کی، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس نے رکعت کو پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2591]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں