🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

678. -- باب: الصبي يتوثب على المصلي ويتعلق بثوبه فلا يمنعه
-- باب: بچے کا نمازی پر اچھلنا اور اس کے کپڑے سے لٹکنا اور نمازی کا اسے نہ روکنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3423
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَامِلٌ أَحَدَ ابْنَيْهِ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَهُ عِنْدَ قَدَمِهِ الْيُمْنَى فَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةٍ أَطَالَهَا قَالَ أَبِي: فَرَفَعْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَإِذَا الْغُلَامُ رَاكِبٌ عَلَى ظَهْرِهِ فَعُدْتُ فَسَجَدْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ سَجَدْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً مَا كُنْتَ تَسْجُدُهَا، أَفَشَيْءٌ أُمِرْتَ بِهِ أَوْ كَانَ يُوحَى إِلَيْكَ؟ قَالَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، إِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أَعْجَلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ".
عبداللہ بن شداد بن ہاد رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اپنے نواسے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں اپنے دائیں پاؤں کے قریب بٹھا دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس کو بہت طویل کر دیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سجدے میں ہیں اور بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سوار ہے، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس نماز میں بہت ہی لمبا سجدہ کیا، اتنا لمبا سجدہ تو آپ نہیں کرتے، کیا دورانِ نماز آپ کو کوئی حکم دیا گیا یا آپ کی طرف وحی کی جا رہی تھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ میرا بیٹا میرے اوپر سوار تھا، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں جلدی کروں اور وہ اپنا شوق پورا نہ کر پائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 1141»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3424
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمَا غُلَامَانِ فَجَعَلَا يَتَوَثَّبَانِ عَلَى ظَهْرِهِ إِذَا سَجَدَ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمَا يُنَحِّيَانِهِمَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ:" دَعُوهُمَا بِأَبِي وَأُمِّي مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ" وَهَذَا الْمُرْسَلُ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آگئے اور یہ دونوں بچے تھے۔ چنانچہ یہ سجدے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ لوگ ان کی طرف بڑھے تاکہ انہیں اس کام سے ہٹا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، میرے ماں باپ قربان ہوں، جو مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ ان دونوں سے محبت کرے۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بچوں پر مشفق اور مہربان کوئی نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه البزار 1834»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3425
قَالَ الشَّيْخُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَقَدْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ مُخَرَّجٌ فِي كِتَابِ مُسْلِمٍ مَعَ سَائِرِ مَا ثَبَتَ عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخْلَاقِهِ الْحَسَنَةِ وَأَوْصَافِهِ الْجَمِيلَةِ الَّتِي مَنْ عَرَفَهَا لَمْ يَسْتَبْعِدْ مَا رُوِّينَا فِي هَذَيْنِ الْبَابَيْنِ مِنْ رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ مَعَ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ}.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث صحیح مسلم میں ہے اور وہ امام مسلم کی کتاب میں تخریج شدہ ہے۔ ان تمام سمیت جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ اور آپ کے ان اوصافِ جمیلہ کا بیان ہے جن کو پہچاننے والا ان باتوں کو بعید نہ سمجھے جن کو ہم ان دو بابوں میں ذکر کر چکے ہیں، یعنی آپ کی مہربانی اور رحمت، اللہ تعالیٰ کے قول ﴿بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 128] ”مومنوں کے ساتھ شفقت کرنے والے رحم کرنے والے ہیں۔“ کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 2316»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں