السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
679. -- باب: من تناول في صلاته شيئا بيده أو غمز غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز لی یا کسی دوسرے کو دبایا (اشارہ کیا)
حدیث نمبر: 3426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:" أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ" ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلِ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ لَعَنَهُ اللهُ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ؛ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيِّ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْأَلَةِ قَضَاءِ الْفَائِتَةِ.
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ پڑھا۔ پھر فرمایا: ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں“، یہ کلمات بھی تین بار کہے اور اپنے ہاتھ پھیلائے، گویا کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ایسے کلمات کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ نہیں کہا کرتے تھے اور ہم نے آپ کو نماز میں ہاتھ پھیلائے دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس، اللہ کی اس پر پھٹکار پڑے، وہ آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ میرے چہرے کے سامنے ڈال دے، تو میں نے تین بار «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ پڑھا، پھر کہا: ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں“، پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں۔ اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر باندھ لیتا تاکہ اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث فوت ہونے والی قضا نمازوں کے مسئلے میں گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3426]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث فوت ہونے والی قضا نمازوں کے مسئلے میں گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 542»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3427
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخَرَقِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذِ اعْتَرَضَ لِي شَيْطَانٌ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقَتْهُ فَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَوْثَقْتُهُ فِي بَعْضِ هَذِهِ السَّوَارِي حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ أَوْ تَرَوْنَهُ" وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا".
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شیطان مجھ سے جھگڑنے لگا، میں نے اس کو پکڑ کر اس کا گلا دبایا۔ اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں اس کو کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے یا تم اس کو دیکھ پاتے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کسوف کے بارے میں ہے کہ ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھلائی گئی تو میں اس سے ایک خوشہ لینے لگا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3427]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کسوف کے بارے میں ہے کہ ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھلائی گئی تو میں اس سے ایک خوشہ لینے لگا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میری ٹانگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی سمت میں رکاوٹ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو مجھے اشارہ کر دیتے، میں اپنی ٹانگیں سمیٹ لیتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث 615۔ 616»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3429
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهَ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔۔۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام، وضو اور آپ کی نماز کے متعلق حدیث بیان کی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا جو جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے میں بھی کرنے لگا، پھر میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا، پھر میرے داہنے کان کو پکڑا اور آپ اس کو مروڑ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 181»
الحكم على الحديث: صحيح