السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
690. -- باب: من صلى إلى غير سترة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے بغیر سترے کے نماز پڑھی
حدیث نمبر: 3479
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَجِئْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ لِي، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ رَاهَقْتُ الِاحْتِلَامَ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْحِمَارَ يَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ مَعَ النَّاسِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ:" قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ، إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ ذَكَرَهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَرَوَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَدِيمِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ وَفِي الْجَدِيدِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الصَّلَاةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں دیوار وغیرہ کے بغیر نماز پڑھی، اتنے میں میں حاضر ہوا، میں سوار تھا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، میں صف کے آگے سے گزر گیا اور گدھے کو چرنے پھرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر صف میں داخل ہو گیا، مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3479]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ" وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَسَيَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے میدان میں نماز پڑھی، آپ کے سامنے کوئی چیز نہ تھی۔
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3480]
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3480]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 224»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3481
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ يَقُولُ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ".
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی سہم کے دروازے کے پاس نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے درمیان سترہ نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3481]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود: 2016»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: قَالَ ⦗٣٨٨⦘ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ" قَالَ سُفْيَانُ: فَذَهَبْتُ إِلَى كَثِيرٍ فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيكَ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي، عَنْ جَدِّي الْمُطَّلِبِ قَالَ عَلِيٌّ: قَوْلُهُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي شَدِيدٌ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَضْبِطْهُ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ قِيلَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَعْيَانُ بَنِي الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ.
کثیر بن کثیر رحمہ اللہ اپنے والد سے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کثیر رحمہ اللہ کے پاس جا کر دریافت کیا کہ جو حدیث تم اپنے والد سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ مجھے میرے گھر والوں نے میرے دادا مطلب کے واسطے سے بیان کی تھی۔
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے خلاف سخت بات ہے۔ ابوسعید عثمان کہتے ہیں: یعنی ابن جریج نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج سے یہ بھی منقول ہے کہ کثیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مطلب کے معززین نے مطلب سے بیان کیا، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3482]
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے خلاف سخت بات ہے۔ ابوسعید عثمان کہتے ہیں: یعنی ابن جریج نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج سے یہ بھی منقول ہے کہ کثیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مطلب کے معززین نے مطلب سے بیان کیا، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح