السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
691. -- باب: من قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يديه سترة المرأة والحمار والكلب الأسود
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
حدیث نمبر: 3483
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ" قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ فَمَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَبْيَضِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَسَلْمَ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، فَسَاقَ حَدِيثَ يُونُسَ ثُمَّ أَحَالَ عَلَيْهِ حَدِيثَ الْبَاقِينَ، وَهَذَا مِنْهُ، رَحِمَنَا اللهُ، وَإِيَّاهُ تَجَوُّزٌ فَحَدِيثُ بَعْضِهِمْ.
سیدنا عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! کالے رنگ کی کیا وجہ ہے؟ سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 510»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3484
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ" فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَبْيَضِ؟ قَالَ: قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْهُ، وَهَكَذَا قَالَهُ عَاصِمٌ ⦗٣٨٩⦘ الْأَحْوَلُ، عَنْ حُمَيْدٍ جَعَلَ أَوَّلَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ أَبِي ذَرٍّ، ثُمَّ جَعَلَهُ مَرْفُوعًا بِالسُّؤَالِ فِي آخِرِهِ وَأَعْرَضَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ عَنِ الِاحْتِجَاجِ بِرِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، وَاحْتَجَّ بِهَا غَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى تَضْعِيفِ الْحَدِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَخِلَافُهُ مَا هُوَ أَثْبَتُ مِنْهُ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مَحْفُوظٍ أَوْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنْ يَلْهُوَ بِبَعْضِ مَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقْطَعَهُ عَنِ الِاشْتِغَالِ بِهَا لَا أَنَّهُ يُفْسِدُ الصَّلَاةَ، وَهَذَا الَّذِي حُمِلَ الْحَدِيثُ عَلَيْهِ أَوْلَى بِهِ، فَنَحْنُ نَحْتَجُّ بِمِثْلِ إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ بَعْضُهَا صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِثْلُهُ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابوذر! کالے رنگ کی وجہ ہے، سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”کالا کتا شیطان ہوتا ہے“۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن صامت کی روایت سے دلیل لینے سے اعراض کیا ہے جبکہ دوسرے حفاظ نے اس سے دلیل لی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہو گی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کر دیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3484]
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن صامت کی روایت سے دلیل لینے سے اعراض کیا ہے جبکہ دوسرے حفاظ نے اس سے دلیل لی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہو گی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کر دیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3485
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقِيلَ: عَنْهُ عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِيلَ: عَنْهُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَصَرًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، کتا اور گدھا نماز توڑ دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اس کو بچا لیتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 511»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3486
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ" قَالَ يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ: لَمْ يَرْفَعْ هَذَا الْحَدِيثَ أَحَدٌ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرُ شُعْبَةَ قَالَ يَحْيَى: وَأَنَا أُفَرِّقُهُ قَالَ: وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، يَعْنِي مَوْقُوفًا قَالَ يَحْيَى: وَبَلَغَنِي أَنَّ هَمَّامًا يُدْخِلُ بَيْنَ قَتَادَةَ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبَا الْخَلِيلِ قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ يَرْفَعْ هَمَّامٌ الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالثَّابِتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنْ يُكْرَهُ، وَذَلِكَ يَدُلُّ مِنْ قَوْلِهِ مَعَ قَوْلِهِ يَقْطَعُ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْقَطْعِ غَيْرُ الْإِفْسَادِ، وَيُرْوَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغہ عورت اور کتا (سامنے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ یہ چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی بلکہ مکروہ ہے اور قطع سے مراد فاسد ہونا نہیں ہے۔
یحییٰ (قطان) فرماتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ سے شعبہ کے علاوہ کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، ابن ابی عروبہ اور ہشام نے اسے قتادہ سے موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3486]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ یہ چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی بلکہ مکروہ ہے اور قطع سے مراد فاسد ہونا نہیں ہے۔
یحییٰ (قطان) فرماتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ سے شعبہ کے علاوہ کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، ابن ابی عروبہ اور ہشام نے اسے قتادہ سے موقوف روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3486]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 703»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الْعَبَّاسُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَحْسَبُهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ ⦗٣٩٠⦘ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْخِنْزِيرُ" قَالَ: وَيَكْفِيكَ إِذَا كَانُوا مِنْكَ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ لَمْ يَقْطَعُوا صَلَاتَكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جب آدمی سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو) کتا، گدھا، بالغہ عورت، یہودی، نصرانی، مجوسی اور خنزیر (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں اور یہ تم سے ایک کنکر پھینکنے کے فاصلے سے دور ہو کر گزریں تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 704»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3488
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثنا مُعَاذٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ" وَلَمْ يَذْكُرِ النَّصْرَانِيَّ قَالَ:" وَالْمَرْأَةُ" وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَائِضَ قَالَ:" وَيُجْزِي عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ".
راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو یہ چیزیں اس کی نماز توڑ دیتی ہیں۔“ انہوں نے نصرانی کا ذکر نہیں کیا اور عورت کا ذکر کیا مگر بالغہ کا لفظ ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”البتہ اگر یہ چیزیں ایک پھینکے ہوئے کنکر کے فاصلے سے دور ہو کر گزر جائیں تو نماز نہیں ٹوٹتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3488]
حدیث نمبر: 3489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ:" اللهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ" فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهِ بَعْدُ.
یزید بن نمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تبوک کے مقام پر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، وہ بیان کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں ایک گدھے پر سوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے پاؤں ضائع کر دے“، اس دن کے بعد میں نہیں چل سکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 705»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3490
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا".
سعید رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی، اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3491
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ:" هَذِهِ قِبْلَتُنَا" ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ:" قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ" فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.
سعید بن غزوان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حج کے ارادے سے نکلے تھے تو تبوک کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، وہاں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں یہ میری زندگی میں کسی اور کو نہ بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ تبوک پر ایک کھجور کے پاس پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”یہ ہمارا قبلہ ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، میں اس وقت بچہ تھا۔ میں دوڑا دوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس درخت کے درمیان سے گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے“۔ میں اس وقت سے آج تک ان پر کھڑا نہیں ہو سکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 707»
الحكم على الحديث: ضعيف