🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

726. -- باب: من أعادها وإن صلاها في جماعة
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز دہرائی اگرچہ اس نے وہ جماعت کے ساتھ پڑھی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3651
رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ" فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا فِي هَذَا الْخَبَرِ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى مَعَهُ، وَقَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہمیں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس شخص کے بارے میں روایت پہنچی ہے جو مسجد میں داخل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟“
تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس خبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے کہ: ”پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کے ساتھ نماز پڑھی، حالانکہ وہ اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3651]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3651
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَدِمْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ بِالْمِرْبَدِ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْنَا مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے۔ انہوں نے مقام ”مربد“ پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہم مسجد میں پہنچے تو نماز کھڑی تھی، ہم نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6661»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3652
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كَانَ أَبُو مُوسَى عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَلَى جُنْدِ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا فَتَوَاعَدَا أَنْ يَلْتَقِيَا عِنْدِي غُدْوَةً فَصَلَّى أَحَدُهُمَا بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى مَعَنَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اہل بصرہ کے لشکر پر نگران مقرر تھے اور سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہما اہل کوفہ کے لشکر پر نگران تھے۔ میں ان دونوں کے درمیان تھا۔ ان دونوں نے وعدہ کیا کہ وہ صبح مجھ سے ملنے آئیں گے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے مقتدیوں کو نماز پڑھائی، پھر ہمارے پاس آکر ہمارے ساتھ بھی نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں