السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
727. -- باب: من لم ير إعادتها إذا كان قد صلاها في جماعة
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لینے کی صورت میں اسے دہرانے کو درست نہیں سمجھا
حدیث نمبر: Q3653
وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْأَخْبَارِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى ذَلِكَ لِوُرُودِ الْأَمْرِ بِالْإِعَادَةِ عَلَى مَنْ صَلَّاهَا وَحْدَهُ.
اور جو احادیث گزر چکی ہیں ان میں اس بات کی دلیل موجود ہے، کیونکہ اکیلے نماز پڑھنے والے کو نماز دہرانے کا حکم وارد ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q3653]
حدیث نمبر: 3653
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، زَادَ ⦗٤٣١⦘ ابْنُ مُكْرَمٍ: وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، وَهَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن میں ایک ہی نماز کو دو مرتبہ نہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 579»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3654
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ مَوْلَى مَيْمُونَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْبَلَاطِ وَالنَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا صَلَاةَ مَكْتُوبَةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ قَدْ كَانَ صَلَّاهَا فِي جِمَاعَةٍ فَلَمْ يُعِدْهَا، وَقَوْلُهُ:" لَا صَلَاةَ مَكْتُوبَةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" أَيْ: كِلْتَاهُمَا عَلَى وَجْهِ الْفَرْضِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِإِعَادَتِهَا اخْتِيَارٌ، وَلَيْسَ بِحَتْمٍ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کے قریب بلاط نامی مقام میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ بیٹھے ہوئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ایک دن میں فرض نماز دو بار نہ پڑھو۔“
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب سے اس روایت کو بیان کرنے میں حسین معلم منفرد ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ اگر وہ نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کر چکا ہو تو دوبارہ نہ پڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”ایک دن میں ایک فرض نماز دو بار نہ پڑھی جائے“ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دونوں کو فرض سمجھتے ہوئے نہ پڑھے اور اصل بات یہ ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم اختیاری ہے حتمی نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3654]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمرو بن شعیب سے اس روایت کو بیان کرنے میں حسین معلم منفرد ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ اگر وہ نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کر چکا ہو تو دوبارہ نہ پڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”ایک دن میں ایک فرض نماز دو بار نہ پڑھی جائے“ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دونوں کو فرض سمجھتے ہوئے نہ پڑھے اور اصل بات یہ ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم اختیاری ہے حتمی نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح