🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1430. -- باب: من كره شدة الإسراع بها مخافة انبجاسها
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے میت کے پھٹ جانے کے خوف سے جنازہ لے جانے میں بہت زیادہ تیزی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْكُوفِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهُ وَلَا تُزَلْزِلُوهُ وَارْفُقُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
ابن جریج عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سرف میں شامل ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سیدہ میمونہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرنا۔ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ کے لیے تقسیم میں حصہ رکھتے اور ایک کے لیے باری تقسیم نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6850]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6851
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ وَهُوَ يُسْرِعُ بِهَا وَهِيَ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ فِي الْمَشْيِ بِجَنَائِزِكُمْ" وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ أَوْصَى، فَقَالَ: إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا بِيَ الْمَشْيَ، وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا رُوِّينَا هَهُنَا إِنْ ثَبَتَ كَرَاهِيَةُ شِدَّةِ الْإِسْرَاعِ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اور لوگ اسے (تیزی کی وجہ سے) اس طرح حرکت دے رہے تھے جیسے مشکیزے کو ہلایا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے جنازوں کے ساتھ چلنے میں میانہ روی کو لازم پکڑو۔“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب تم میرے جنازے کے ساتھ چلو تو چلنے میں تیزی اختیار کرنا۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ اس روایت سے مراد، اگر یہ ثابت ہو، شدت سے تیز چلنے کی کراہت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6851]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطيالسي»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں