السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1431. -- باب: الركوب عند الانصراف من الجنازة
-- باب: جنازے سے واپسی پر سواری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6852
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرِيٍّ فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جِنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گھوڑا بغیر زین لایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے سے پلٹے (ابودحداح رضی اللہ عنہ کے) اور ہم آپ کے اردگرد چل رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6853
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٣٥⦘ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ، فَأُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَجُلٌ، فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِابْنِ الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو دحداح رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بغیر زین گھوڑا لایا گیا۔ وہ کہتے ہیں: اسے ایک بندے نے باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور وہ تیز چلنے لگا اور ہم اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کھجوروں کے کتنے ہی لٹکتے ہوئے گچھے ہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبُ وَهُمْ يَمْشُونَ فَلَمَّا ذَهَبُوا أَوْ قَالَ عَرَجُوا رَكِبْتُ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شامل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سواری لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہونے سے انکاری ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے سے فارغ ہو کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، میں نے سوار ہونا مناسب نہ جانا۔ جب وہ چلے گئے یا کہا: جب وہ اوپر چڑھ گئے تو میں سوار ہو گیا، ان کے پیدل چلتے ہوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6854]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 6855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا خُرُوجًا عَلَى دَوَابِّهِمْ رُكْبَانًا فَقَالَ لَهُمْ ثَوْبَانُ:" أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ مَلَائِكَةُ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں نکلا، انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں پر نکلے ہیں تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگ حیا نہیں کرتے کہ فرشتے تو اپنے قدموں پر چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر نکلے ہو۔
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6855]
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6855]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6856
وَقَدْ: رَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا، فَقَالَ:" أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عِيسَى، وَرَوَاهُ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مَوْقُوفًا، عَنْ ثَوْبَانَ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ وَكَذَا قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
عیسیٰ بن یونس نے یہ حدیث ابوبکر بن ابی مریم سے، انہوں نے راشد بن سعد سے اور انہوں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں نکلے تو کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، تو فرمایا: ”کیا تم حیا نہیں کرتے؟ اللہ کے فرشتے تو اپنے قدموں پر ہیں اور تم جانوروں کی پشتوں پر ہو۔“
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6856]
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6856]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: منكر