السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1750. -- باب: ما يستدل به على نسخ الحديث
-- باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8299
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٤٦⦘ الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَمَرَّ عَلَيَّ رَجُلٌ لِثَمَانِ عَشْرَةَ أَوْ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھارہ رمضان یا سترہ رمضان کو ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سنگی لگوا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم و محجوم نے افطار کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8299]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ تخريجة»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْفَتْحِ فَرَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے فتحِ مکہ کے سال، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سنگی لگوا رہا ہے، تب رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا کہ: ”حاجم ومحجوم نے افطار کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8300]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمَاعُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَلَمْ يَصْحَبْهُ مُحْرِمًا قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ، فَذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ حِجَامَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ سَنَةَ عَشْرٍ، وَحَدِيثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ سَنَةَ ثَمَانٍ قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ بِسَنَتَيْنِ فَإِنْ كَانَا ثَابِتَينِ فَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ نَاسِخٌ وَحَدِيثُ" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" مَنْسُوخٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ مَعًا مُشْتَبَهٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَمْثَلُهُمَا إِسْنَادًا، فَإِنَ تَوَقَّى رَجُلٌ الْحِجَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ احْتِيَاطًا وَلِئَلَّا يُعَرِّضَ صَوْمَهُ أَنْ يَضْعُفَ فَيُفْطِرَ فَإِنِ احْتَجَمَ فَلَا تُفْطِرُهُ الْحِجَامَةُ وَمَعَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْقِيَاسُ الَّذِي أَحْفَظُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَعَامَّةِ الْمَدَنِيِّينَ أَنَّهُ لَا يُفْطِرُ أَحَدٌ بِالْحِجَامَةِ.
مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں سنگی لگوائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع عام الفتح سے ہے، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے، اور حجۃ الاسلام سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما احرام کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں رہے۔ لہٰذا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگی کا جو تذکرہ کیا ہے وہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا ہے، اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث سن 8 ہجری کی ہے، یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ سو اگر یہ دونوں ثابت ہوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں حدیثوں کی سند مشتبہ ہے اور سند کے اعتبار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ان دونوں میں بہتر ہے۔ سو اگر کوئی احتیاطاً سنگی سے بچے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ اپنے روزے کو اس خطرے میں نہ ڈالے کہ کمزور ہو کر روزہ افطار کر لے، اور اگر سنگی لگوا لے تو سنگی اس کا روزہ نہیں توڑے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ قیاس بھی ہے اور وہ بات بھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ، تابعین اور عام اہل مدینہ سے یاد رکھی ہے کہ سنگی سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8301]
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع عام الفتح سے ہے، اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے، اور حجۃ الاسلام سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما احرام کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں رہے۔ لہٰذا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگی کا جو تذکرہ کیا ہے وہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا ہے، اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث سن 8 ہجری کی ہے، یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ سو اگر یہ دونوں ثابت ہوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں حدیثوں کی سند مشتبہ ہے اور سند کے اعتبار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ان دونوں میں بہتر ہے۔ سو اگر کوئی احتیاطاً سنگی سے بچے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ اپنے روزے کو اس خطرے میں نہ ڈالے کہ کمزور ہو کر روزہ افطار کر لے، اور اگر سنگی لگوا لے تو سنگی اس کا روزہ نہیں توڑے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ قیاس بھی ہے اور وہ بات بھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ، تابعین اور عام اہل مدینہ سے یاد رکھی ہے کہ سنگی سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8302
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ⦗٤٤٧⦘ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا كُرِهْتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَفْطَرَ هَذَانِ" ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِلَفْظِ التَّرْخِيصِ يَدُلُّ عَلَى هَذَا فَإِنَّ الْأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِيصَ يَكُونُ بَعْدَ النَّهْيِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس کی وجہ سے سنگی کو ناپسند کیا گیا وہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاس سے گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں نے افطار کر لیا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو سنگی لگوانے کی رخصت دے دی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔
علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور میں اس میں کوئی علت نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8302]
علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور میں اس میں کوئی علت نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8302]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه دارقطني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8303
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَحْتَجِمُ عِنْدَ الْحَجَّامِ وَهُوَ يُقْرِضُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" قَوْلُهُ: يُقْرِضُ رَجُلًا لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَغَيْرُ يَزِيدَ رَوَاهُ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَأَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ رَوَاهُ عَنْ ثَوْبَانَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو حجام کے پاس سنگی لگوا رہا تھا اور وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم اور محجوم نے افطار کر لیا۔“
”وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا“ کے الفاظ میں نے صرف اسی حدیث میں لکھے ہیں۔ یزید کے علاوہ دوسروں نے اسے ابواشعث سے، انہوں نے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور ابواسماء رحبی نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8303]
”وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا“ کے الفاظ میں نے صرف اسی حدیث میں لکھے ہیں۔ یزید کے علاوہ دوسروں نے اسے ابواشعث سے، انہوں نے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور ابواسماء رحبی نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8303]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ اخرجه الطبراني في الكبير»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 8304
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ فَلَا أَدْرِي عَنْ شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَوْ شَيْءٍ سَمِعَهُ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں سنگی لگوایا کرتے تھے، بعد میں ترک کر دیا، پھر رات کے وقت سنگی لگوایا کرتے تھے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے کوئی بات بیان کی یا سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8304]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8305
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عِنْدَ وَقْتِ الْفِطْرِ.
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان میں افطار کے وقت سنگی لگواتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8305]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح