السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8339
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا ⦗٤٥٦⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ:" فَإِنِّي صَائِمٌ" قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ وَقَدْ خَبَّأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ:" مَا هُوَ؟" قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ:" هَاتِيهِ" فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ:" قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَفْظُ الْعَقَدِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”اے عائشہ! کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہمیں ہدیہ دیا گیا یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے۔ ہمارے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ چھپا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: وہ حیس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ میں لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ویسے صبح میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8339]
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8339]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8340
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقَضَاءَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حیس چھپایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ویسے میں تو روزے کا ارادہ رکھتا تھا مگر تو اسے قریب کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8340]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8341
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ وَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ" وَكَانَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَحْمِلُ فِي هَذَا اللَّفْظِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيِّ هَذَا وَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرُهُ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَقَدْ حَدَّثَ بِهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَهُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حیس چھپا کر رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ تو روزے کا تھا، مگر تو اسے میرے قریب کر، اور میں اس کے عوض ایک دن کی قضا کر لوں گا۔“
ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ ان الفاظ کا الزام اسی محمد بن عمرو بن عباس باہلی پر ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کے علاوہ کسی نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کی اور اس کی متابعت نہیں کی گئی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ ابن عیینہ نے اپنی عمر کے آخر میں اسے بیان کیا ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ غیر محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8341]
ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ ان الفاظ کا الزام اسی محمد بن عمرو بن عباس باہلی پر ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کے علاوہ کسی نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کی اور اس کی متابعت نہیں کی گئی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ ابن عیینہ نے اپنی عمر کے آخر میں اسے بیان کیا ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ غیر محفوظ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8341]
تخریج الحدیث: «انظر قبله»
الحكم على الحديث: انظر قبله
حدیث نمبر: 8342
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، ثنا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِاللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الرَّبِيعُ وَزَادَ فِي آخِرِهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، ⦗٤٥٧⦘ قَالَ الْمُزَنِيُّ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ عَامَّةَ مَجَالِسِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ ثُمَّ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِسَنَةٍ فَأَجَابَ فِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَتُهُ عَامَّةَ دَهْرِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ هَذَا اللَّفْظَ مَعَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى لَا يَذْكُرُهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ وَوَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَغَيْرُهُمْ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ.
سفیان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ان الفاظ میں بیان کیا جو ربیع رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں اور اس کے آخر میں یہ بیان کیا کہ: ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا۔“
مزنی کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میں نے سفیان کو ان کی اکثر مجالس میں سنا کہ وہ اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر میں نے ان کی وفات سے ایک سال پہلے یہ حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ کہا۔
شیخ کہتے ہیں: ان کا اپنی اکثر عمر اس حدیث کو ان الفاظ کے بغیر بیان کرنا، اور ساتھ ہی طلحہ بن یحییٰ سے ایک جماعت کا اسے بیان کرنا جن میں سے کوئی بھی یہ الفاظ ذکر نہیں کرتا (ان میں سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج، عبدالواحد بن زیاد، وکیع بن جراح، یحییٰ بن سعید قطان، یعلیٰ بن عبید وغیرہ شامل ہیں)، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الفاظ غلط ہیں، واللہ اعلم۔ اور یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8342]
مزنی کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میں نے سفیان کو ان کی اکثر مجالس میں سنا کہ وہ اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر میں نے ان کی وفات سے ایک سال پہلے یہ حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ کہا۔
شیخ کہتے ہیں: ان کا اپنی اکثر عمر اس حدیث کو ان الفاظ کے بغیر بیان کرنا، اور ساتھ ہی طلحہ بن یحییٰ سے ایک جماعت کا اسے بیان کرنا جن میں سے کوئی بھی یہ الفاظ ذکر نہیں کرتا (ان میں سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج، عبدالواحد بن زیاد، وکیع بن جراح، یحییٰ بن سعید قطان، یعلیٰ بن عبید وغیرہ شامل ہیں)، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الفاظ غلط ہیں، واللہ اعلم۔ اور یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8342]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8343
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" إِذًا أَصُومُ" قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِذًا أُفْطِرُ وَإِنْ كُنْتُ فَرَضْتُ الصَّوْمَ" وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ تو میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں آج افطار کر لیتا ہوں اگرچہ آج میں نے روزے کو واجب کر لیا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8343]
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8343]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8344
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْقَاضِي: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: فَجَاءَهُ سَلْمَانُ يَزُورُهُ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا حَاجَةٌ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، وَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَأْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الْآنَ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ ⦗٤٥٨⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ لَكَ سَلْمَانُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہما میں بھائی چارہ قائم کیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ ان سے ملنے آئے تو انہوں نے اُم درداء رضی اللہ عنہا کو پراگندہ حالت میں دیکھا اور کہا: ”اے اُم درداء! تجھے کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”آپ کا بھائی ابودرداء صبح روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے اور اسے دنیا داری کی کوئی حاجت نہیں ہے۔“ ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے سامنے کھانا رکھا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”میں روزے دار ہوں۔“ وہ کہنے لگے: ”میں تجھ پر قسم ڈالتا ہوں کہ آپ ضرور افطار کریں گے۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک تم نہ کھاؤ۔“ تو انہوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر ان کے پاس رات گزاری۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے قیام کرنا چاہا مگر سلمان رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا اور ان سے کہا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے اور تیرے رب کا حق ہے اور تیری بیوی کا حق ہے، لہٰذا تو روزہ رکھ اور کبھی چھوڑ دے اور نماز پڑھ اور اپنی بیوی کی خبر لے اور حق والے کو اس کا حق دے۔“ جب صبح قریب ہوئی تو انہوں نے کہا: ”اٹھو! اگر چاہت ہو تو اب قیام کرو۔“ وہ کہتے ہیں: پھر وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا، دو رکعات پڑھیں اور مسجد کی طرف نکل گئے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیں جو کچھ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ایسے ہی جیسے سلمان نے کہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8344]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8345
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَقَالَ:" صُمْتِ أَمْسِ؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" تَصُومِينَ غَدًا؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَأَفْطِرِي" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں روزے سے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنے والی کل کا روزہ رکھے گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو افطار کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8346
أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى فَشَرِبَ فَنَاوَلَنِي سُؤْرَهُ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَشَرِبْتُ سُؤْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلْتُ شَيْئًا لَا أَدْرِي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ نَاوَلْتَنِي سُؤْرَكَ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمُتَطَوِّعَةٌ أَمْ قَضَاءٌ مِنْ رَمَضَانَ؟" قُلْتُ: مُتَطَوِّعَةٌ، قَالَ:" الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ابو صالح، ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا اور اسے پی لیا اور اپنا بچا ہوا مجھے دیا تو میں صائمہ تھی مگر میں نے پی لیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک کام کیا ہے معلوم نہیں میں نے درست کیا یا غلط؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا بچا ہوا پانی دیا اور میں روزے سے تھی مگر میں نے پی لیا اس لیے کہ میں نے واپس کرنا ناپسند سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا لوٹا لاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے نفلی روزہ رکھا یا رمضان کی قضا کا؟“ میں نے کہا: نفلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفلی روزہ مرضی سے ہے، چاہو تو رکھ لو، چاہو تو افطار کر لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8346]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8347
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو يُونُسَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفلی روزے رکھنے والا اپنی مرضی کا مالک ہے، اگر چاہے تو روزہ رکھے، چاہے تو افطار کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8347]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظرقبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8348
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ ⦗٤٥٩⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟" فَقُلْتُ: لَا قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ: عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ" قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا حَدِيثَ سِمَاكٍ مِنْ كِتَابِهِ.
سماک ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پوتے سے بیان کرتے ہیں اور وہ اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا، وہ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے اس سے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی۔ میں نے ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو لوٹاؤں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی تو میں نے ناپسند جانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو واپس لوٹاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو قضا کر رہی تھی اپنی طرف سے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی نقصان نہیں۔“
(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو کسی کی قضا دے رہی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8348]
(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو کسی کی قضا دے رہی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8348]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظرقبله»
الحكم على الحديث: ضعيف