🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1759. -- باب: التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا
-- باب: اگر روزہ نفلی ہو تو اس کی قضا کے سلسلے میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8360
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ لَهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ أَوْ قَالَ: دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی منگوایا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، پھر مجھے دے دیا تو میں نے بھی پیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی لیکن میں نے نہ چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی واپس لوٹاؤں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر رمضان کے مہینے کی قضا تھی تو پھر اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ، اگر نفلی روزہ تھا پھر تو چاہے تو قضا دے چاہے اگر چاہے تو قضا نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8360]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ معنيٰ لكلام»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيهِ".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر رمضان کے روزوں کی قضا تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضا دے یا نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8362
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَأَتَانِي هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ" ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَفْطِرْ وَصُمْ مَكَانَهُ يَوْمًا إِنْ شِئْتَ" وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَدْ أَخْرَجْنَاهُ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا تو میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آئے۔ جب کھانا رکھا گیا تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں روزے سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لیے تکلف کیا ہے۔“ پھر اسے فرمایا: ”افطار کر اور اس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اگر تو چاہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8362]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطبراني في الاؤسط»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں