🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2004. -- باب:: أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة
-- باب: سب سے افضل دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9473
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَوَصْلُهُ ضَعِيفٌ.
طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل ترین دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہی وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور امام مالک سے ایک دوسری سند کے ساتھ موصولاً بھی مروی ہے، لیکن اس کا موصول ہونا ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9473]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِعَرَفَةَ يَدَاهُ إِلَى صَدْرِهِ كَاسْتِطْعَامِ الْمِسْكِينِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ میں دیکھا، آپ ہاتھ ایسے سینے کی طرف اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے جیسے مسکین کھانا مانگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9474]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ المعجم الاوسط للطبراني 2892»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9475
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّاسٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرُ دُعَائِي وَدُعَاءِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي بِعَرَفَةَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ، وَشَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرِّيَاحُ، وَمِنْ شَرِّ بَوَائِقِ الدَّهْرِ" تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يُدْرِكْ أَخُوهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ: رَمَقْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ؛ لِأَسْمَعَ مَا يَدْعُو، قَالَ: فَمَا زَادَ عَلَى أَنْ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی عرفہ میں زیادہ تر دعا یہ ہے: ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! میرے دل، سماعت، بصارت میں نور بنا دے، اے اللہ! میرا سینہ کھول دے اور میرا معاملہ آسان کر دے۔ میں سینے کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملوں کے بکھرنے اور قبر کے فتنہ سے۔ میں دن اور رات میں داخل ہونے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور زمانے کی مصیبتوں اور جس چیز کے ساتھ ہوا چلتی ہے اس کے شر سے۔““
ابو شعبہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر اپنی نظر جمائے رکھی جب وہ عرفہ میں تھے، جو وہ پڑھ رہے تھے، میں اس کو سن رہا تھا، فرماتے ہیں کہ انھوں نے «لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ» ”اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے“ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں موسیٰ بن عبیدہ منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، اور ان کے بھائی (عبداللہ بن عبیدہ) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9475]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ابي شيبه 15130»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں