🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2063. -- باب: الوقوف في الملتزم
-- باب: ملتزم کے پاس وقوف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9765
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُلْزِقُ وَجْهَهُ وَصَدْرَهُ بِالْمُلْتَزَمِ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنا چہرہ اور سینہ ملتزم کے ساتھ لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9765]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 2/ 289»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَكَانَ يَقُولُ:" مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ يُدْعَى الْمُلْتَزَمَ لَا يَلْزَمُ مَا بَيْنَهُمَا أَحَدٌ يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" هَذَا مَوْقُوفٌ، وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ فِيهِ قَدْ مَضَتْ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رکن اور دروازے کی درمیانی جگہ کو لازم پکڑتے اور فرماتے تھے: رکن اور دروازے کی درمیانی ملتزم نامی جگہ کو جو شخص بھی چمٹ کر اللہ سے کچھ بھی مانگے تو اللہ اس کو ضرور دے دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9766]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9767
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" أُحِبُّ لَهُ إِذَا وَدَّعَ الْبَيْتَ أَنْ يَقِفَ فِي الْمُلْتَزَمِ وَهُوَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَيَقُولُ: اللهُمَّ، الْبَيْتُ بَيْتُكَ، وَالْعَبْدُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، حَمَلْتَنِي عَلَى مَا سَخَّرْتَ لِي مِنْ خَلْقِكَ حَتَّى سَيَّرْتَنِي فِي بِلَادِكَ، وَبَلَّغْتَنِي بِنِعْمَتِكَ حَتَّى أَعَنْتَنِي عَلَى قَضَاءِ مَنَاسِكِكَ فَإِنْ كُنْتَ رَضِيتَ عَنِّي فَازْدَدْ عَنِّي رِضًا، وَإِلَّا فَمِنَ الْآنِ قَبْلَ أَنْ تَنْأَى عَنْ بَيْتِكَ دَارِي فَهَذَا أَوَانُ انْصِرَافِي إِنْ أَذِنْتَ لِي غَيْرَ مُسْتَبْدِلٍ بِكَ وَلَا بِبَيْتِكَ وَلَا رَاغِبًا عَنْكَ وَلَا عَنْ بَيْتِكَ، ⦗٢٦٩⦘ اللهُمَّ فَاصْحَبْنِي بِالْعَافِيَةِ فِي بَدَنِي وَالْعِصْمَةِ فِي دِينِي، وَأَحْسِنْ مُنْقَلَبِي، وَارْزُقْنِي طَاعَتَكَ مَا أَبْقَيْتَنِي" وَهَذَا مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَهُوَ حَسَنٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں پسند کرتا ہوں کہ جب وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف کرے تو وہ ملتزم میں کھڑا ہو، اور یہ دروازے اور رکن کے درمیان ہے اور کہے: اے اللہ! یہ تیرا گھر ہے، اور بندہ تیرا بندہ ہے، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہے، تو نے مجھے اپنی مخلوق میں سے اس سواری پر سوار کیا جسے تو نے میرے لیے مسخر کیا یہاں تک کہ تو نے مجھے اپنے شہروں میں چلایا، اور اپنی نعمت سے مجھے یہاں تک پہنچایا یہاں تک کہ تو نے اپنے مناسک ادا کرنے میں میری مدد فرمائی، پس اگر تو مجھ سے راضی ہو گیا ہے تو اپنی رضامندی مزید عطا فرما، اگر نہیں تو پھر ابھی سے ہی مجھ پر راضی ہو جا، اس سے پہلے کہ میرا گھر تیرے گھر سے دور ہو جائے۔ اب میرے کوچ کا وقت آ پہنچا، اگر تو مجھے اجازت دے، میں تیرے یا تیرے گھر کے علاوہ کچھ اور نہ چاہنے والا ہوں اور نہ ہی تجھ سے یا تیرے گھر سے بے رغبت ہونے والا ہوں، اے اللہ! تو میرے بدن میں عافیت دے اور دین میں عصمت عطا کر اور میرا لوٹنا اچھا بنا دے اور مجھے اپنی اطاعت کی توفیق دے جب تک تو مجھے زندہ رکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره الشافعي في الام 2/ 343»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں