السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2064. -- باب: من كره أن يقال للذي لم يحج: صرورة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حج نہ کرنے والے کو ”صرورہ“ کہنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ يُقَالُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ وَرَازٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں صرورت نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9768]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1729۔ احمد 1/ 312»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9769
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَالَ لِلْمُسْلِمِ: صَرُورَةٌ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ فَذَكَرَهُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ مِنْ قَوْلِهِ وَنَفَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي رِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يَلْطِمُ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَيَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ لَهُ دَعُوا الصَّرُورَةَ لِجَهْلِهِ وَإنْ رُمِيَ بِجَعْرِهِ فِي رِجْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ" وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: يَلْطِمُ وَجْهَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ: رُدُّوا صَرُورَةَ وَجْهِهِ وَلَوْ أَلْقَى سَلْحَهُ فِي رِجْلِهِ، ⦗٢٧٠⦘ وَرُوِيَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ تَارَةً، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرٍ، وَتَارَةً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا صَرُورَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ”مسلمان کو «صَرُورٌ» (صرور) کہا جائے“، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں «صَرُورَةٌ» (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا: اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں «لَا صَرُورَةَ» (بندھا رہنا) نہیں ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا، پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا: اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
نافع بن جبیر (غالباً اپنے والد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“
عمر بن قیس، جس نے اسے عمرو بن دینار سے ابن عباس تک متصل روایت کیا ہے، قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9769]
نافع بن جبیر (غالباً اپنے والد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“
عمر بن قیس، جس نے اسے عمرو بن دینار سے ابن عباس تک متصل روایت کیا ہے، قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9770
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صَرُورَةٌ" قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ: لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مُعَاوِيَةُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان فرماتے ہیں کہ: ”تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں۔“
سلیمان بن احمد کہتے ہیں: اسے سفیان سے معاویہ کے سوا کسی نے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9770]
سلیمان بن احمد کہتے ہیں: اسے سفیان سے معاویہ کے سوا کسی نے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9770]
تخریج الحدیث: «حسن۔ طبراني اوسط 1297۔ دارقطني 2/ 23»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9771
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِصَرُورَةٍ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي حَاجٌّ فَإِنَّ الْحَاجَّ هُوَ الْمُحْرِمُ" مُرْسَلٌ وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں، مسلمان بندھا ہوا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی یہ کہے کہ میں حاجی ہوں، حاجی تو محرم ہوتا ہے۔
یہ روایت مرسل ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9771]
یہ روایت مرسل ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9771]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ طبراني كبير 8932»
الحكم على الحديث: ضعيف