السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2100. -- باب: ما لا يأكل المحرم من الصيد
-- باب: محرم شکار میں سے جو نہیں کھا سکتا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ وَأَنَا مَعَهُمْ، قَالَ:" خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي"، فَأَخَذْنَا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَبْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ أَبِي قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ رَأَيْنَا حُمْرَ وَحْشٍ فَعَقَرْتُ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا فَقَالُوا: نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا حَتَّى أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا كُنَّا قَدْ أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمْرَ وَحْشٍ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ⦗٣١٠⦘ فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ثُمَّ حَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟"، فَقَالُوا: لَا، قَالَ:" فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُقْرِئِ:" أَوْ مُعْتَمِرًا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ کرنے کے لیے نکلے، ہم بھی ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دوسرے راستے پر پھیر دیا، میں بھی ان کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساحلِ سمندر کے راستے چلو، یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو۔“ ہم ساحلِ سمندر کے راستے پر چل پڑے۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس ہوئے تو سب نے احرام باندھ لیا تھا، سوائے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے۔ ہم چل رہے تھے کہ اچانک ہم نے نیل گائے دیکھیں۔ میں نے ان میں سے ایک مادہ کی کونچیں کاٹ دیں، وہ سب اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ انہوں نے کہا: ”ہم حالتِ احرام میں شکار کا گوشت کھا رہے ہیں۔“ وہ باقی ماندہ گوشت اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ہم نے احرام باندھ رکھا تھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، ہم نے نیل گائے دیکھیں تو انہوں نے ان میں سے ایک مادہ کی کونچیں کاٹ دیں، ہم نے اتر کر اس کا گوشت کھایا، پھر باقی ماندہ گوشت اٹھا لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے اس پر حملہ کرنے کا کہا یا اس کی طرف اشارہ کیا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گوشت باقی بچا ہے کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9917]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1196»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ فَأَتَاهُمْ بِهِ فَأَكَلُوا وَحَمَلُوا فَلَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ:" هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَدَّهُ بِشَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَكُلُوا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ محرم لوگوں کی ایک جماعت میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ حلال تھے۔ لوگوں نے ایک نیل گائے دیکھی۔ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی حتیٰ کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود دیکھ لیا۔ انہوں نے ان میں سے کسی کا کوڑا اچک لیا، پھر اس پر حملہ کر کے اس کو گرا لیا۔ وہ اسے ان کے پاس لے کر آئے۔ انہوں نے کھایا اور اپنے ساتھ بھی لے لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال بھی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس کی طرف اشارہ کیا یا کسی چیز سے اس کی مدد کی؟“ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9918]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه عبدالرزاق 8337»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 9919
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي إِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ"، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ اصْطَدْتُهُ لَكَ وَقَوْلُهُ: وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، لَا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَعْمَرٍ وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ..
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی، اس پر حملہ کر کے شکار کر لیا، میں نے اس کی حالت کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے بتایا کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا اور یہ شکار میں نے صرف آپ کے لیے کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا تو انہوں نے کھایا، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے یہ شکار آپ کے لیے کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہ کھایا۔
علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: ان کا یہ قول کہ ”میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے“ اور یہ قول کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہ کھایا“، میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں معمر سے یہ ذکر کیا ہو، اور یہ اس روایت کے موافق ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9919]
علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: ان کا یہ قول کہ ”میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے“ اور یہ قول کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہ کھایا“، میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں معمر سے یہ ذکر کیا ہو، اور یہ اس روایت کے موافق ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9919]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 9920
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ لَفْظَةٌ غَرِيبَةٌ، لَمْ نَكْتُبْهَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْهَا وَتِلْكَ الرِّوَايَةُ أَوْدَعَهَا صَاحِبَا الصَّحِيحِ كِتَابَيْهِمَا دُونَ رِوَايَةِ مَعْمَرٍ وَإِنْ كَانَ الْإِسْنَادَانِ صَحِيحَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ایضاً (عبدالرزاق سے ایک دوسری سند کے ساتھ)۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ غریب ہیں، ہم نے انہیں صرف اسی سند سے لکھا ہے۔ ہم نے ابوحازم بن دینار کے واسطے سے عبداللہ بن ابی قتادہ سے اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا، اور صحیح کے دونوں مصنفین نے معمر کی روایت کے بجائے اسی روایت کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، اگرچہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9920]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ غریب ہیں، ہم نے انہیں صرف اسی سند سے لکھا ہے۔ ہم نے ابوحازم بن دینار کے واسطے سے عبداللہ بن ابی قتادہ سے اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کھایا، اور صحیح کے دونوں مصنفین نے معمر کی روایت کے بجائے اسی روایت کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، اگرچہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9920]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 11351»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9921
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣١١⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَحْمُ صَيْدِ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشکی کے شکار کا گوشت تمہارے لیے حالتِ احرام میں بھی حلال ہے، جب تک تم خود شکار نہ کرو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9921]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ" فَهَؤُلَاءِ ثَلَاثَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ أَقَامُوا إِسْنَادَهُ عَنْ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَعَنِ الثِّقَةِ عِنْدَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرٍو..
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے، جب تک تم شکار نہ کرو یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔“
یہ تین ثقہ راوی ہیں جنہوں نے عمرو سے اس کی سند درست بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9922]
یہ تین ثقہ راوی ہیں جنہوں نے عمرو سے اس کی سند درست بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9922]
حدیث نمبر: 9923
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: ابْنُ أَبِي يَحْيَى أَحْفَظُ مِنَ الدَّرَاوَرْدِيِّ، وَسُلَيْمَانُ مَعَ ابْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ وَهُمَا مَعَ سُلَيْمَانَ مِنَ الْأَثْبَاتِ.
یہ سابقہ حدیث کی ایک سند ہے: عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے اسے عمرو بن ابی عمرو سے اور بنو سلمہ کے ایک آدمی سے، انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی یحییٰ دراوردی سے زیادہ حافظ ہیں، اور سلیمان (بن بلال) ابن ابی یحییٰ کے ساتھ ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح یعقوب بن عبدالرحمن اور یحییٰ بن عبداللہ بن سالم بھی، اور یہ دونوں سلیمان کے ساتھ ثبت راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9923]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی یحییٰ دراوردی سے زیادہ حافظ ہیں، اور سلیمان (بن بلال) ابن ابی یحییٰ کے ساتھ ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح یعقوب بن عبدالرحمن اور یحییٰ بن عبداللہ بن سالم بھی، اور یہ دونوں سلیمان کے ساتھ ثبت راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 786»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9924
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْعَرْجِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ غَطَّى وَجْهَهُ بِقَطِيفَةِ أُرْجُوَانٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَحْمِ صَيْدٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، قَالُوا: أَلَا تَأْكُلُ أَنْتَ؟، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنَّمَا صِيدَ مِنْ أَجْلِي".
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو عرج مقام پر گرمی کے ایک دن دیکھا، آپ محرم تھے، انہوں نے اپنے چہرے کو سرخ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا، پھر شکار کا گوشت لایا گیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کھاؤ۔ ساتھی کہنے لگے: کیا آپ نہ کھائیں گے؟ فرمانے لگے: میں تمہاری طرح نہیں کیونکہ شکار کیا ہی میری وجہ سے گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8345»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9925
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَكْبٍ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَائِرٌ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ:" أَنَأْكُلُ مِمَّا لَسْتَ مِنْهُ آكِلًا؟" فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلَكُمْ، إِنَّمَا اصْطِيدَ لِي وَأُمِيتَ بِاسْمِي".
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک قافلہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر عمرہ کیا۔ ان کو ایک پرندہ تحفہ میں دیا گیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اسے کھانے کا حکم دیا اور خود کھانے سے انکار کر دیا تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس سے ہم کھائیں جس سے آپ نہیں کھا رہے؟ فرمانے لگے: اس میں میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، کیوں کہ شکار میرے لیے کیا گیا ہے اور میرے نام پر ہی مارا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9925]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2434»
الحكم على الحديث: صحيح