السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2099. -- باب: ما يأكل المحرم من الصيد
-- باب: محرم شکار میں سے جو کچھ کھا سکتا ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 9904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضُ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللهُ".
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے، وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور وہ (خود) محرم نہ تھے، انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا، وہ اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے میرا کوڑا ہی پکڑا دو، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے نیزہ مانگا تب بھی انہوں نے انکار کر دیا، پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ خود پکڑا اور سوار ہو گئے، انہوں نے جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کر دیا، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس میں سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کر دیا، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو کھانا ہے جو اللہ رب العزت نے تمہیں کھلایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9904]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5172»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9905
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى الزَّاهِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ.
یہ سابقہ حدیث کی سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9905]
حدیث نمبر: 9906
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے وحشی گدھے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، ابو النضر کی حدیث کی طرح، لیکن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کوئی گوشت ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9906]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ماقبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ، وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَرَكِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِي فَسَقَطَتْ سَوْطِي فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَاوِلُونِي، وَكَانُوا مُحْرِمِينَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِي، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ⦗٣٠٧⦘ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.
ابو محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم قاحہ نامی جگہ پر آئے تو ہمارے بعض ساتھی محرم تھے اور بعض غیر محرم تھے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، میں نے بھی دیکھا تو وہ نیل گائے تھی۔ میں نے گھوڑے کی زین کسی اور میں سوار ہو گیا، میں نے اپنا نیزہ پکڑ لیا اور کوڑا گر گیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے پکڑا دو اور وہ محرم تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیری مدد ہرگز نہ کریں گے۔ میں نے اپنا کوڑا پکڑا، پھر گدھے کے پیچھے ہو لیا، جو ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، میں نے اس کو نیزہ مارا اور میں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ میں اس کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، بعض تو کہنے لگے: کھالو اور بعض نے کہا: مت کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال ہے، تم کھالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1727»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9908
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ مَعَ أَصْحَابِي فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ يَعْنِي فَانْطَلَقْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي فَأَطْلُبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ مِنْ غِفَارٍ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: بِالسُّقْيَا يَعْنِي فَلَحِقْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ:"" كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حدیبیہ والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ میں محرم نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو ہنسا رہے تھے۔ میں نے دیکھا، اچانک نیل گائے تھی۔ میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی سواری پر بیٹھ گیا، میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے کھایا اور ہم ڈر بھی گئے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، میں غفار قبیلہ کے ایک شخص کو نصف رات کو ملا۔ میں نے کہا: آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا؟ اس نے کہا: ”سقیا“ نامی جگہ پر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ پر سلام کہتے ہیں اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ان کو نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا انتظار کر لیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے نیل گائے پکڑی، اس کا کچھ زائد گوشت میرے پاس موجود بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ۔“ حالانکہ وہ حالتِ احرام میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9908]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1725»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9909
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، قَالَ: فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي بِهِ فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى فَرَسِي فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُهُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا وَرَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ أَجُرُّهُ قَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَّأْتُ الْعَضُدَ مَعِي فَأَدْرَكَنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ حَتَّى تَعَرَّقَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے۔ لوگ حالتِ احرام میں تھے اور میں محرم نہ تھا۔ لوگوں نے نیل گائے دیکھی اور میں اپنی جوتی سی رہا تھا۔ انہوں نے مجھے اطلاع نہ دی۔ میں نے اچانک دیکھا تو میں اپنے گھوڑے کی طرف کھڑا ہوا اور زین کسی اور سوار ہو گیا اور اپنے کوڑے اور نیزے کو بھول گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا کوڑا اور نیزہ پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ہم تیری کچھ بھی مدد نہ کریں گے۔ میں نے نیچے اتر کر پکڑ لیا اور مضبوطی سے سوار ہوا۔ میں نے اس کو قتل کر دیا اور کھینچ کر اس کو لے کر آیا وہ مر گئی۔ وہ اس میں واقع ہو گئے۔ اس کو کھا رہے تھے۔ پھر ان کو اپنے کھانے میں شک گزرا؛ کیونکہ وہ محرم تھے۔ ہم چلے اور میں نے اس کا ایک بازو چھپا لیا۔ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچے اور اس کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی چیز اس سے ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بازو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا؛ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی سے گوشت کو اتارا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9909]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2431»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9910
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا ⦗٣٠٨⦘ يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ عَلِيٌّ: ثنا وَقَالَ، إِبْرَاهِيمُ: أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ التَّيْمِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَأَهْدَوْا لَنَا لَحْمَ صَيْدٍ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ لِلَّذِينَ أَكَلُوا:" أَصَبْتُمْ"، وَقَالَ لِلَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا:" أَخْطَأْتُمْ، فَإِنَّا قَدْ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حُرُمٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
معاذ بن عبدالرحمن بن عثمان تیمی رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کے راستے پر تھے اور ہم حالتِ احرام میں تھے۔ انہوں نے ہمیں شکار کے گوشت کا تحفہ دیا اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے۔ بعض نے کھا لیا اور بعض نے نہ کھایا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ جب طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو جنہوں نے کھایا تھا ان سے کہا کہ تم نے درست کام کیا ہے، اور جنہوں نے نہ کھایا تھا ان سے کہنے لگے کہ تم نے غلطی کی ہے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شکار کا گوشت کھایا تھا جب ہم حالتِ احرام میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9910]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 197»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9911
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ يُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ وَادِي الرَّوْحَاءِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِيرًا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَرُوهُ حَتَّى يَأْتِيَ صَاحِبُهُ" فَأَتَى الْبَهْزِيُّ وَكَانَ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأَبْوَاءِ فَإِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَفِيهِ سَهْمٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ النَّاسَ عَنْهُ.
عمیر بن سلمہ بہز قبیلہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، مکہ کا ارادہ تھا۔ جب وادی روحا میں آئے تو لوگوں نے ایک نیل گائے زخمی دیکھی۔ انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ، اس کا زخمی کرنے والا آ ہی جائے گا۔“ تو بہزی آ گئے، جنہوں نے زخمی کیا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ جانور آپ لوگوں کے لیے ہے، جو چاہیں کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ حالانکہ وہ محرم تھے، پھر ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ابواء نامی جگہ آ گئے۔ اچانک ہرن درخت کے سائے کے نیچے لیٹا ہوا تھا۔ اس میں تیر بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اس کے پاس ٹھہر جائے تاکہ لوگ گزر جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9911]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 4344۔ احمد 3/ 418»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ لَحْمٍ اصْطِيدَ لِغَيْرِهِمْ أَيَأْكُلُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَأَفْتَيْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بِمَا أَفْتَيْتَ؟ فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَأْكُلَهُ، قَالَ:" لَوْ أَفْتَيْتَهُ بِغَيْرِ ذَلِكَ لَعَلَوْتُ رَأْسَكَ بِالدِّرَّةِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا نُهِيتَ أَنْ تَصْطَادَهُ".
ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل شام میں سے ایک آدمی نے مجھ سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا جو دوسروں کے لیے تھا، کیا وہ اس سے کھا لے جبکہ وہ حالتِ احرام میں ہو؟ میں نے اس کو فتویٰ دیا کہ وہ کھا لے۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ تو انہوں نے پوچھا: تو نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھاؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا فتویٰ دیتا تو میں تجھے کوڑے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تجھے صرف شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9912]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8344»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9913
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ لَحْمِ الصَّيْدِ يُهْدِيهِ الْحَلَالُ لِلْحَرَامِ، قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ"، قُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ نَفْسِكَ أَتَأْكُلُهُ؟، قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ"، قُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ نَفْسِكَ أَتَأْكُلُهُ؟، قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيْرًا مِنِّي".
ابوالشعثاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے شکار کے گوشت کے بارے میں سوال کیا کہ حلال آدمی محرم کو ہدیہ دے؟ فرمانے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھا لیتے تھے، میں نے کہا: میں آپ کے متعلق سوال کر رہا ہوں کیا آپ کھا لیتے ہیں؟ فرمانے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھا لیتے تھے، میں نے کہا: میں آپ کے متعلق سوال کر رہا ہوں کیا آپ کھا لیتے ہیں؟ فرمانے لگے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9913]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح