🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2224. -- باب: تحريم التفاضل في الجنس الواحد مما يجري فيه الربا مع تحريم النساء استدلالا بما مضى
-- باب: جن اشیاء میں سود جاری ہوتا ہے، ان میں سے ایک ہی جنس کی چیزوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی حرمت اور ادھار کی حرمت کا بیان، گزشتہ (احادیث) سے استدلال کرتے ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10485
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى وَغَيْرِهِ.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دینار دو دینار اور ایک درہم دو درہم کے عوض فروخت نہ کرو۔“ [صحیح۔ مسلم ١٥٨٥] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10486
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار دینار کے عوض ان کے درمیان تفاضل نہ ہو اور ایک درہم درہم کے بدلے ان کے درمیان بھی تفاضل نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10486]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1588»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلِ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے بدلے برابر برابر، نقد، دست بدست فروخت کرو۔ جس نے زائد لیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا اس نے سود حاصل کیا، لینے اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10487]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10488
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ بِحَدِيثٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو سَعِيدٍ فَنَزَلَ هَذِهِ الدَّارَ فَأَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" مَا يُحَدِّثُ هَذَا عَنْكَ؟" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:" بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي، قَالَ: فَمَا نَسِيتُ قَوْلَهُ بِأُصْبُعِهِ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَبَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، پھر ابوسعید آئے اور اس گھر میں ٹھہرے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ ہم ان کے پاس آئے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آپ سے کیا بیان کرتا ہے؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا، (نافع کہتے ہیں:) میں ان کی وہ بات نہیں بھولا جو انہوں نے انگلی کے اشارے سے کہی تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے کی خرید و فروخت سے منع کیا، مگر برابر برابر، اور فرمایا: ”تم ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10488]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2176»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10489
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ الْعُتْوَارِيَّ، حَدَّثَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا"، فَمَشَى عَبْدُ اللهِ وَمَعَهُ نَافِعٌ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَزْنًا بِوَزْنٍ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، وَلَا يُبَاعُ عَاجِلٌ بِآجِلٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے عوض ہو، ان کے درمیان تفاضل نہ ہو۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ نافع رحمہ اللہ بھی تھے، چلے اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”دینار و درہم، دینار و درہم کے عوض برابر وزن کے ساتھ ہوگا، برابر وزن کے ساتھ ان کے درمیان تفاضل نہ ہوگا اور نقد کو ادھار کے عوض نہ بیچا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10489]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10490
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو مُسْلِمٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا عَبْدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّرْفِ وَلَمْ يَسْمَعْ فِيهِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ" - قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: وَمَا الرَّمَاءَ؟ قَالَ: الرِّبَا -، قَالَ: فَحَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدِيثًا، قَالَ نَافِعٌ: فَأَخَذَ بِيَدِ الْأَنْصَارِيِّ وَأَنَا مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَذَا حَدَّثَ عَنْكَ حَدِيثَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: مَا هُوَ فَذَكَرَهُ، قَالَ: نَعَمْ سَمِعَ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي، قَالَهَا ثَلَاثًا، فَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ حِيَالَ عَيْنَيْهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" لَا تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبَايَعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ دُونَ قَوْلِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سونے کی بیع کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، اور انہوں نے اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا تھا، کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، ماسوائے برابر برابر اور تم ایک دوسرے پر کمی بیشی نہ کرو، مجھے تمہارے اوپر سود کا ڈر ہے، راوی کہتے ہیں: ایک انصاری نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انصاری کا ہاتھ پکڑ لیا اور میں ان دونوں کے ساتھ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے ابو سعید! اس نے آپ سے (فلاں فلاں) حدیث بیان کی ہے وہ کیا ہے؟ اس نے ذکر کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں، میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا، اس بات کو انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے برابر اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے عوض تم فروخت نہ کرو سوائے برابر برابر، اور کوئی چیز تم نقد کے بدلے ادھار میں فروخت نہ کرو اور نہ ہی تم ایک دوسرے پر کمی بیشی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10490]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10491
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا ⦗٤٥٩⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَ صَائِغٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي، فَنَهَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يَرُدُّ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَابْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ إِلَى دَابَّةٍ يَرْكَبُهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" وَفِي رِوَايَةِ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، ثُمَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کے زیورات بناتا ہوں، پھر اس میں سے کچھ اس کے وزن سے زیادہ کے عوض فروخت کرتا ہوں، تو میں اپنی مزدوری کے عوض کچھ زائد وصول کرتا ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو منع کر دیا، تو سنار اپنی بات بار بار دہرا رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کو منع فرما رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے پر آکر اپنے چوپائے پر سوار ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے، ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے (زیادتی یا کمی نہیں)، یہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا اور ہمارا عہد تم سے یہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10491]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1300»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10492
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”دینار دینار کے عوض اور درہم درہم کے عوض ہو، ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے۔“ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا یہی عہد تمہاری طرف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10492]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10493
وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ عَنْهُ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ الصَّائِغِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ، ثُمَّ أَبِيعُهُ وَأَسْتَفْضِلُ فِيهِ قَدْرَ أُجْرَتِي، أَوْ عَمَلِ يَدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي بِصَاحِبِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْأَرْمَوِيُّ، أنا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
وردان رومی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں زیورات بناتا ہوں۔ پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں اور اپنی مزدوری یا ہاتھ کا کام اس کی بنا پر کچھ زیادہ لیتا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، اس میں «تَفَاضُلٌ» نہیں، یہ عہد ہم سے ہمارے صاحب نے لیا اور یہی ہمارا تمہاری طرف عہد ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صاحب سے مراد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مزنی کی روایت میں سنار کا قصہ تفصیل سے بیان کر کے فرمایا: یہ غلطی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10493]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10494
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ مِنْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ"، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:" مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا"، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ؟ أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ، لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا"، ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنْ لَا يَبِيعَ ذَلِكَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ فِي هَذَا قَدُومَ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَلَى عُمَرَ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ.
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زائد میں فروخت کیا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ”آپ اس جیسے سے منع فرماتے تھے ماسوائے برابر، برابر“، معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: کون میرا عذر پیش کرے معاویہ کو کہ میں اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے خبر دے رہے ہیں، میں اس سر زمین میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا جس میں تم ہو۔ پھر ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ اس کو فروخت نہ کریں مگر برابر وزن کے ساتھ، لیکن ربیع نے امام شافعی رحمہ اللہ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10494]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه المالك 1302»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں