السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2225. -- باب: من قال: الربا في النسيئة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا: ”سود صرف ادھار میں ہے“۔
حدیث نمبر: 10495
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ طَاوُسٌ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سود ادھار میں ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1596»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَالدِّينَارُ بِالدِّينَارِ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ" قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللهِ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَنْتُمْ أَعْلَمُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَكِنْ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" ⦗٤٦١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”درہم درہم کے بدلے، دینار دینار کے بدلے برابر برابر ہو، ان کے درمیان تفاضل جائز نہیں۔“ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی۔ میں نے ان سے کہا: آپ مجھے بتائیں جو آپ کہتے ہیں، کیا آپ نے کتاب اللہ یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کو پایا ہے جو آپ کہتے ہیں؟ وہ فرمانے لگے: نہ تو میں اسے کتاب اللہ میں پاتا ہوں اور نہ ہی میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، لیکن تم مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانتے ہو۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10496]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2069»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ:" مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَمَا كَانَ مِنْهُ نَسِيئَةً فَلَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ دُونَ ذِكْرِ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، مع ذِكْرِ عَامِرِ بْنِ مُصْعَبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرْقَاءَ بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ، أَوْ إِلَى الْحَجِّ، فَذَكَرَهُ وَبِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَرُوِيَ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي بِالْكُوفَةِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ، عِنْدِي أَنَّ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهُوَ الْمُرَادُ بِمَا أُطْلِقَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَيَكُونُ الْخَبَرُ وَارِدًا فِي بَيْعِ الْجِنْسَيْنِ أَحَدُهُمَا بِالْآخَرِ، فَقَالَ: مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ وَمَا كَانَ مِنْهُ نَسِيئَةً فَلَا، وَهُوَ الْمُرَادُ بِحَدِيثِ أُسَامَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے کے بارے میں سوال کیا، وہ دونوں کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تاجر تھے، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دست بدست نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے۔“
(ب) ابومنہال کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے موسم یا حج تک ادھار پر چاندی فروخت کی۔
(ج) حمیدی کی روایت میں ہے کہ میرے ایک شریک نے کوفہ میں درہموں کو درہموں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا، میرے نزدیک یہ غلطی ہے اور صحیح وہ ہے جو علی بن مدینی اور محمد بن حاتم نے روایت کیا ہے، اور ابن جریج کی روایت میں بھی یہی مراد ہے کہ وہ حدیث جس میں تذکرہ ہے کہ ایک جنس کو دوسری کے عوض فروخت کرنا، جب نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے، یہی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10497]
(ب) ابومنہال کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے موسم یا حج تک ادھار پر چاندی فروخت کی۔
(ج) حمیدی کی روایت میں ہے کہ میرے ایک شریک نے کوفہ میں درہموں کو درہموں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا، میرے نزدیک یہ غلطی ہے اور صحیح وہ ہے جو علی بن مدینی اور محمد بن حاتم نے روایت کیا ہے، اور ابن جریج کی روایت میں بھی یہی مراد ہے کہ وہ حدیث جس میں تذکرہ ہے کہ ایک جنس کو دوسری کے عوض فروخت کرنا، جب نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو وہ جائز نہیں ہے، یہی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1955»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10498
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حَبِيبٌ هُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، عَنِ الصَّرْفِ، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا" ⦗٤٦٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عُمَرَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صرف کے متعلق سوال کیا گیا تو دونوں رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چاندی کو سونے کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2070»
الحكم على الحديث: صحيح