السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2226. -- باب: ما يستدل به على رجوع من قال من الصدر الأول: لا ربا إلا في النسيئة عن قوله ونزوعه عنه
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے قرونِ اولیٰ کے ان لوگوں کے اپنے قول ”سود صرف ادھار میں ہے“ سے رجوع کرنے اور اس سے باز آنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 10499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا وَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ:" مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا"، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الدُّونَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّى لَكَ هَذَا؟" قَالَ: انْطَلَقْتُ بِصَاعِي وَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أِيَّ تَمْرٍ شِئْتَ" فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ فَكَرِهَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ: وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ.
ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف کے متعلق سوال کیا، وہ دونوں اس میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے صرف کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے: جو زیادہ ہو وہ سود ہے، میں نے ان دونوں (سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی وجہ سے انکار کر دیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں صرف تمہیں وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ ایک کھجوروں والا ایک صاع عمدہ کھجوریں لے کر آیا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں ردی قسم کی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کہاں سے؟“ اس نے کہا: میں اپنی کھجوروں کا ایک صاع لے کر گیا اور میں نے یہ ایک صاع خرید لیا اور کہنے لگا: بازار میں اس کا یہ ریٹ ہے اور اس کا یہ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سود کا کام کیا ہے، جب تیرا یہ ارادہ تھا تو اپنی کھجوریں قیمت میں فروخت کرتا، پھر اس قیمت کے عوض جونسی مرضی کھجوریں خریدتا۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھجور کھجور کے عوض یہ زیادہ حق ہے کہ وہ سود ہو یا چاندی چاندی کے عوض۔ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے منع کر دیا اور میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نہ آیا۔
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10499]
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10499]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1594»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10500
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو عَلِيٍّ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ ابْنَةِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا جَدِّي الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْجَوْزَاءِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَخْدُمُ ابْنَ عَبَّاسٍ تِسْعَ سِنِينَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ دِرْهَمٍ بِدِرْهَمَيْنِ فَصَاحَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ:" إنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أُطْعِمَهُ الرِّبَا"، فَقَالَ نَاسٌ حَوْلَهُ: إِنْ كُنَّا لَنَعْمَلُ هَذَا بِفُتْيَاكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" قَدْ كُنْتُ أُفْتِي بِذَلِكَ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، وَابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ".
سیدنا ابوالجوزاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نو سال خدمت کی۔ اچانک ایک آدمی آیا، اس نے ایک درہم کے عوض دو درہم لینے کے بارے میں سوال کیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما چیخ پڑے اور فرمانے لگے: یہ مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اس کو سود کھلاؤں۔ ان کے اردگرد جو لوگ تھے وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے فتوے کی بنیاد پر یہ کام کرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ مجھے سیدنا ابوسعید اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع کیا تھا“ اس وجہ سے میں بھی تمہیں منع کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10500]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن عساكر في تاريخ 14/ 292»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10501
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَمْخِ بْنِ فَزَارَةَ سَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَرَأَى أُمَّهَا فَأَعْجَبَتْهُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَيَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ:" لَا بَأْسَ" فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ وَكَانَ يَبِيعُ نِفَايَةَ بَيْتِ الْمَالِ يُعْطِي الْكَثِيرَ وَيَأْخُذُ الْقَلِيلَ، حَتَّى قَدِمَ ⦗٤٦٣⦘ الْمَدِينَةَ فَسَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا:" لَا يَحِلُّ لِهَذَا الرَّجُلِ هَذِهِ الْمَرْأَةُ، وَلَا تَصْلُحُ الْفِضَّةُ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ"، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللهِ انْطَلَقَ إِلَى الرَّجُلِ فَلَمْ يَجِدْهُ وَوَجَدَ قَوْمَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَفْتَيْتُ بِهِ صَاحِبَكُمْ لَا يَحِلُّ"، فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنَهَا، قَالَ: وَإِنْ كَانَ وَأَتَى الصَّيَارِفَةَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الصَّيَارِفَةِ إِنَّ الَّذِي كُنْتُ أُبَايِعُكُمْ لَا يَحِلُّ، لَا تَحِلُّ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو شمخ بن فزارہ کے ایک آدمی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت سے شادی کی، پھر اس کی والدہ کو دیکھا، وہ اس کو پسند آئی اور اچھی لگی تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کیا وہ اس کی والدہ سے شادی کر لے؟ انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ اس مرد نے شادی کر لی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیت المال کے محکمے میں تھے، وہ بیت المال کی ردی چیزیں زیادہ دے کر تھوڑی لے لیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے۔ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا، انہوں نے کہا: اس شخص کے لیے یہ عورت جائز نہیں ہے اور چاندی کی فروخت بھی برابر برابر وزن میں کی جائے وگرنہ درست نہیں ہے۔ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس آدمی کی طرف گئے، اس کو نہ پایا، لیکن اس کی قوم موجود تھی۔ انہوں نے کہا: جو فتویٰ میں نے تمہارے ساتھ کر دیا تھا وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: اگرچہ وہ حاملہ بھی ہو چکی ہو۔ پھر وہ صرافوں (سکے تبدیل کرنے والے) کے پاس آئے اور فرمایا: اے صرافوں کی جماعت! بے شک وہ لین دین جو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا تھا وہ جائز نہیں اور چاندی چاندی کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں مگر صرف برابر برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10501]
تخریج الحدیث: «اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 88»
الحكم على الحديث: اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 88