السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2404. -- باب: من استعمل الدلالة فقال: هو للذي إليه الدواخل ومعاقد القمط
-- باب: اس شخص کا قول جس نے نشانیوں سے استدلال کیا اور کہا: دیوار اس کی ہے جس کی طرف اندرونی حصہ اور رسیاں باندھنے کی جگہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 11368
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ الْعَنْسِيُّ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: اخْتَصَمَ قَوْمٌ فِي حَظَائِرَ بَيْنَهُمْ، فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَيْتُ لِلَّذِي وَجَدْتُ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" أَصَبْتَ" تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِي إِسْنَادِهِ، فَرُوِيَ هَكَذَا، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قوم میں ایک چاردیواری کے بارے میں جھگڑا ہو گیا جو ان کے درمیان تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ میں نے جس کے پاس کڑیاں تھیں اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے درست فیصلہ کیا۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں دہثم بن قران یمامی منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، اور اس کی سند میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے؛ یہ اس طرح بھی روایت کی گئی ہے اور دو دوسرے طریقوں سے بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11368]
اس حدیث کو بیان کرنے میں دہثم بن قران یمامی منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، اور اس کی سند میں اس پر اختلاف کیا گیا ہے؛ یہ اس طرح بھی روایت کی گئی ہے اور دو دوسرے طریقوں سے بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11368]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11369
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ دِينَارٍ، مَوْلَى جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، أَنَّ دَارًا كَانَتْ بَيْنَ أَخَوَيْنِ فَحَظَرَا فِي وَسَطِهَا حِظَارًا، ثُمَّ هَلَكَا وَتَرَكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَقِبًا، فَادَّعَى عَقِبُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ الْحِظَارَ لَهُ مِنْ دُونِ صَاحِبِهِ، فَاخْتَصَمَ عَقِبَاهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْضِي بَيْنَهُمَا فَقَضَى بِالْحِظَارِ لِمَنْ وَجَدَ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ" قَالَ دَهْثَمٌ: أَوْ قَالَ:" أَحْسَنْتَ". لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ.
جاریہ بن ظفر سے روایت ہے کہ دو بھائیوں کا ایک گھر تھا، انہوں نے درمیان میں باڑ لگا لی، پھر وہ دونوں فوت ہو گئے اور اپنی اولاد چھوڑ گئے، دونوں کی اولاد نے باڑ کا دعویٰ کر دیا، ان دونوں کا معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، پھر باڑ کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا جس کے پاس کڑیاں تھیں، پھر سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے درست فیصلہ کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11369]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ يَخْتَصِمُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ، فَبَعَثَ مَعَهُمْ حُذَيْفَةَ فَقَضَى بِالْخُصِّ لِمَنْ تَلِيهِ الْقِمْطُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْسَنْتَ" وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمٍ، فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَوْجُهٍ مِنَ الِاخْتِلَافِ عَلَى دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ فِي إِسْنَادِهِ..
ایک قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے کر آئے جو ایک جھونپڑی کے بارے میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے پاس رسی ملتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تو نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔“
یہ دہثم بن قران پر اس کی سند میں اختلاف کی تین صورتیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11370]
یہ دہثم بن قران پر اس کی سند میں اختلاف کی تین صورتیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11370]
حدیث نمبر: 11371
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانَ ضَعِيفٌ ⦗١١٢⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ عَدَّهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْهُ مِمَّنْ لَا يُكْتَبُ حَدِيثُهُ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَضَعَّفَهُ أَيْضًا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَقَالَ: لَا يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دہثم بن قران ضعیف ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی مریم کی ان سے روایت میں یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسے اہل یمامہ کے ان لوگوں میں شمار کیا ہے جن کی حدیث نہیں لکھی جاتی، اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے اور فرمایا: اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11371]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن ابی مریم کی ان سے روایت میں یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسے اہل یمامہ کے ان لوگوں میں شمار کیا ہے جن کی حدیث نہیں لکھی جاتی، اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے اور فرمایا: اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11371]
حدیث نمبر: 11372
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا فِي خُصٍّ لَهُمْ إِلَى عَلِيٍّ" فَقَضَى بَيْنَهُمْ أَنْ يُنْظَرَ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ مِنَ الْقِمَاطِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سماک رحمہ اللہ اہل بصرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک قوم والے جھونپڑی کا جھگڑا لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ کیا کہ ان میں سے جو رسیوں کے زیادہ قریب ہے وہ حق دار ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، اور ولید بن ابی ثور نے اسے سماک سے، انہوں نے حنش سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11372]
یہ روایت منقطع ہے، اور ولید بن ابی ثور نے اسے سماک سے، انہوں نے حنش سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصُّلْحِ/حدیث: 11372]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف