السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2472. -- باب: من أباح المزارعة بجزء معلوم مشاع وحمل النهي عنها على التنزيه أو على ما لو تضمن العقد شرطا فاسدا
-- باب: اس شخص کا قول جس نے پیداوار کے ایک معلوم مشترکہ حصے پر مزارعت کو مباح قرار دیا، اور اس کی ممانعت کو کراہت تنزیہی پر محمول کیا، یا اس صورت پر محمول کیا جب عقد کسی فاسد شرط پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 11738
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرَضَهُ، فَأُخْبِرَ بِحَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَهْلَ الْأَرْضِ قَدْ كَانُوا يُعْطُونَ أَرَضِيهِمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَشْتَرِطُ صَاحِبُ الْأَرْضِ لِيَ الْمَاذِيَانَاتِ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَيَشْتَرِطُ مِنَ الْجَرِينِ نَصِيبًا مَعْلُومًا، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَظُنُّ أَنَّ النَّهْيَ لِمَا كَانُوا يَشْتَرِطُونَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیتے تھے، ان کو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی خبر دی گئی تو وہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے سوال کیا، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تم جانتے ہو کہ زمینوں والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمینیں (کرایے پر) دیتے تھے اور مالک نہر کے کنارے، فصل کے پانی اور معلوم حصے کی شرط لگاتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خیال کرتے تھے کہ منع ان شرائط کی وجہ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11738]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 14454»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11739
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُزَارَعَةِ" أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ يَشْتَرِطُ ثَلَاثَةَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا زَعَمَ أَنَّ الْأَخْبَارَ الَّتِي وَرَدَ النَّهْيُ فِيهَا عَنْ كِرَائِهَا بِالنِّصْفِ أَوِ الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ إِنَّمَا هُوَ لِمَا كَانُوا يُلْحِقُونَ بِهِ مِنَ الشُّرُوطِ الْفَاسِدَةِ، فَقَصَرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِذِكْرِهَا، وَقَدْ ذَكَرَهَا بَعْضُهُمْ، وَالنَّهْيُ يَتَعَلَّقُ بِهَا دُونَ غَيْرِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا اسید بن ظہیر بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مزارعت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تین نالیوں کی، قصارہ (گاہنے کے بعد سٹے میں بچ جانے والے دانوں) کی اور جسے چھوٹی نہر سیراب کرے اس کی شرط لگاتا تھا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
شیخ فرماتے ہیں: اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11739]
شیخ فرماتے ہیں: اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11739]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11740
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ، لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ"، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ إِلَى الْبَحْرَانِيَّةِ، وَاشْتَرَى عُقُرَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَأَجْلَى أَهْلَ فَدَكٍ وَتَيْمَاءَ وَأَهْلَ خَيْبَرَ، وَاسْتَعْمَلَ يَعْلَى بْنَ مُنْيَةَ، فَأَعْطَى الْبَيَاضَ عَلَى أَنْ كَانَ الْبَذْرُ وَالْبَقَرُ وَالْحَدِيدُ مِنْ عُمَرَ، فَلِعُمَرَ الثُّلُثَانِ وَلَهُمُ الثُّلُثُ، وَإِنْ كَانَ مِنْهُمْ فَلَهُمُ الشَّطْرُ، وَأَعْطَى النَّخْلَ وَالْعِنَبَ عَلَى أَنَّ لِعُمَرَ الثُّلُثَيْنِ وَلَهُمُ الثُّلُثَ وَأَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَيْهِ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ وَهُوَ مُرْسَلٌ. قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ: وَقَالَ قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَزَارَعَ عَلِيٌّ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْقَاسِمُ، وَعُرْوَةُ، وَآلُ أَبِي بَكْرٍ، وَآلُ عُمَرَ، وَآلُ عَلِيٍّ، وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات والے مرض میں فرمایا: ”اللہ یہود و نصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہیں رہیں گے۔“ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو اہل نجران کو بحرانیہ کی طرف جلا وطن کر دیا اور ان کی جائیدادیں اور مال خرید لیے اور اہل فدک، اہل تیماء اور اہل خیبر کو جلا وطن کیا اور یعلیٰ بن منیہ کو عامل مقرر کیا۔ اس کو صاف زمین دی اس شرط پر کہ بیج، گائے اور لوہا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہوگا اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دو تہائی اور ان کے لیے ایک تہائی، اور اگر یہ چیزیں ان کی طرف سے ہوں تو ان کے لیے نصف، اور کھجوریں اور انگور اس شرط پر دیے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دو تہائی اور ان کے لیے ایک تہائی۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو جعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مدینہ میں مہاجرین ثلث اور ربع پر زراعت کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ، قاسم رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، آل ابوبکر رضی اللہ عنہم، آل عمر رضی اللہ عنہم، آل علی رضی اللہ عنہم اور ابن سیرین رحمہ اللہ زراعت کرتے تھے، اور عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کا شریک تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11740]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو جعفر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ مدینہ میں مہاجرین ثلث اور ربع پر زراعت کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ، قاسم رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ، آل ابوبکر رضی اللہ عنہم، آل عمر رضی اللہ عنہم، آل علی رضی اللہ عنہم اور ابن سیرین رحمہ اللہ زراعت کرتے تھے، اور عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں زراعت میں عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کا شریک تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11740]
حدیث نمبر: 11741
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ" فَلِذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ كِرَاءَ أَرْضِهِ، فَلَمْ يَكُنْ يُكْرِيهَا لَا بِذَهَبٍ وَلَا بِوَرِقٍ وَلَا بِشَيْءٍ، فَأَخَذَ بِذَلِكَ مِنْ فُتْيَا رَافِعٍ أُنَاسٌ، وَتَرَكَهُ آخَرُونَ، فَأَمَّا الْمُعَامَلَةُ عَلَى الشَّطْرِ أَوِ الثُّلُثَيْنِ أَوْ مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ أَفَاءَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عَلَى الشَّطْرِ، وَذَلِكَ أَطْيَبُ أَمْرِ الْأَرْضِ وَأَحَلُّهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا وَزَعَمَ أَنَّ مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَهُ، وَحَدِيثُ رَافِعٍ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَهْيِهِ عَنِ الْمُعَامَلَةِ عَلَيْهَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، إِلَّا أَنَّهُ أَسْنَدَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ مَرَّةً، وَأَرْسَلَهُ أُخْرَى، وَاسْتَقْصَى فِي رِوَايَتِهِ مَرَّةً، وَاخْتَصَرَهَا أُخْرَى، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَحَدِيثُ الْمُعَامَلَةِ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ مَقُولٌ بِهِ إِذَا كَانَ الزَّرْعُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّخْلِ، وَفِي ذَلِكَ جَمْعٌ بَيْنَ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِيهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ زمین سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے بدری چچوں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زمین کرایہ پر دینے“ سے منع فرمایا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے زمین کرایہ پر دینے سے چھوڑ دی۔ وہ اسے نہ سونے کے بدلے دیتے تھے نہ چاندی کے اور نہ کسی اور چیز کے بدلے۔ بعض لوگوں نے رافع رضی اللہ عنہ کے فتوے پر عمل کیا اور بعض نے چھوڑ دیا۔ رہا معاملہ نصف، دو تہائی یا جو وہ طے کرتے تھے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو نصف پر مقرر کیا جب اللہ نے مسلمانوں کو غنیمت عطا کی اور یہ زمین کا اچھا حل ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے پہلی بات کہی اس نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں ہے، اور رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت ہے اور اس میں پیداوار کے کچھ حصے پر زمین کا معاملہ کرنے کی نہی کی دلیل ہے، مگر یہ کہ انہوں نے اسے کبھی اپنے بعض چچاؤں سے مسند بیان کیا اور کبھی مرسل، اور کبھی پوری روایت بیان کی اور کبھی مختصر، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ نے ان کی روایت کی متابعت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اور خیبر کے پھلوں یا اناج کے نصف پر معاملے والی حدیث پر اس وقت عمل کیا جائے گا جب کھیتی کھجور کے درختوں کے درمیان ہو، اور اسی میں ان روایات کے درمیان تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11741]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے پہلی بات کہی اس نے اس کا جواب دیا اور کہا کہ جو بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں ہے، اور رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت ہے اور اس میں پیداوار کے کچھ حصے پر زمین کا معاملہ کرنے کی نہی کی دلیل ہے، مگر یہ کہ انہوں نے اسے کبھی اپنے بعض چچاؤں سے مسند بیان کیا اور کبھی مرسل، اور کبھی پوری روایت بیان کی اور کبھی مختصر، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ نے ان کی روایت کی متابعت کی ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اور خیبر کے پھلوں یا اناج کے نصف پر معاملے والی حدیث پر اس وقت عمل کیا جائے گا جب کھیتی کھجور کے درختوں کے درمیان ہو، اور اسی میں ان روایات کے درمیان تطبیق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11741]