السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2488. -- باب: من أقطع قطيعة فباعها
-- باب: اس شخص کے بیان میں جسے کوئی جاگیر دی گئی اور اس نے اسے فروخت کر دیا
حدیث نمبر: 11827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الربيع الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٢٤٧⦘ عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ فَأَقَامَ ثَلَاثًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ، وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ:" مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ؟" فَقَالُوا: بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَ:" قَدِ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ"، فَاقْتَسَمُوهَا، فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ، فَعَمِلَ ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ.
سیدنا سبرہ بن عبدالعزیز اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دومہ کے نیچے مسجد والی جگہ پر اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن ٹھہرے، پھر تبوک کی طرف گئے اور جہینہ قبیلے کے لوگ رحبہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مروہ والے کون ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جہینہ کے بنو رفاعہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بنو رفاعہ کے لیے زمین الاٹ کی ہے۔“ انہوں نے اسے تقسیم کر لیا، ان میں سے بعض نے بیچ دیا اور بعض نے روک لیا اور کام کیا، پھر (ابن وہب کہتے ہیں:) میں نے سبرہ کے والد عبدالعزیز سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث کچھ بیان کی، مکمل بیان نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11827]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف