السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2489. -- باب: ما لا يجوز إقطاعه من المعادن الظاهرة
-- باب: ظاہری کانوں میں سے جنہیں بطور جاگیر عطا کرنا جائز نہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 11828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيَّ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمِيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُمَيْرٍ - قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: ابْنِ عَبْدِ الْمُدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ" أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ"، قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَقَطَعَهُ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ، إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ:" فَانْتُزِعَ مِنْهُ" قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، قَالَ:" مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ"، وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ: أَخْفَافُ الْإِبِلِ.
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمک کی کان مانگی۔ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو مارب میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دے دی۔ جب وہ لے کر واپس ہوئے تو مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاری پانی دے دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ واپس لے لی۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پیلو کے درختوں میں سے کون سے چراگاہ کے طور پر محفوظ کیے جا سکتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک کھر نہ پہنچیں۔“ ابن المتوکل رحمہ اللہ نے کہا: اونٹوں کے کھر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11828]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11829
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَآرِبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ" أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَأَرَادَ أَنَ يُقْطِعَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّهُ كَالْمَاءِ الْعِدِّ، فَأَبَى أَنَ يُقْطِعَهُ" قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمَاءُ الْعِدُّ: الدَّائِمُ الَّذِي لَا انْقِطَاعَ لَهُ، وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعَيْنِ وَمَاءِ الْبِئْرِ.
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمک کی کان مانگی، جو مارب میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے کہا: ”وہ جاری پانی کی طرح ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینے سے انکار کر دیا۔
اصمعی کہتے ہیں: «الْمَاءُ الْعِدُّ» سے مراد وہ دائمی پانی ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جیسے چشمے اور کنویں کا پانی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11829]
اصمعی کہتے ہیں: «الْمَاءُ الْعِدُّ» سے مراد وہ دائمی پانی ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جیسے چشمے اور کنویں کا پانی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11829]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا بُهَيْسَةُ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
بنو فزارہ کے ایک آدمی سیار بن منظور نے اپنے والد سے اور انہوں نے بہیسہ نامی عورت سے اور انہوں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ وہ داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمک۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کون سی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جو بھی اچھا کام کرے تیرے لیے بہتر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11830]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٢٤٨⦘ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقَدِمَ صَاحِبِي، تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ، فَقَالَ:" اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ"، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ، إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ، مُقَيَّدُ الْجَمَلِ، وَمَرْعَى الْغَنَمِ، وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَمْسِكْ يَا غُلَامُ، صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ، وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ".
صفیہ اور دحیبہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ان کی دادی رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میرے صاحب یعنی حریث بن حسان رضی اللہ عنہ بنی بکر بن وائل کی طرف سے وفد کی صورت میں آئے، اسلام پر بیعت کی، پھر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اور بنی تمیم کے درمیان دہناء کے بارے میں لکھ دیں کہ ان میں سے کوئی اس سے تجاوز کر کے ہماری طرف نہ آئے، الا یہ کہ کوئی مسافر ہو یا پناہ لینے والا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام! اس کے لیے دہناء لکھ دو۔“ جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اس کے لیے دینے کا حکم دے دیا ہے تو میں پریشان ہو گئی، حالانکہ وہ میرا وطن اور میرا گھر تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جب آپ سے سوال کیا تو برابری والی زمین کا سوال نہیں کیا، یہ دہناء تو آپ کے ہاں اونٹ باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور ان کے بیٹے اس کے پیچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے غلام! ٹھہر جا، مسکینہ نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، پانی اور درخت ان دونوں کے لیے کافی ہیں اور وہ فتنہ ڈالنے والے کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11831]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو خِدَاشٍ، وَهَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أَسْمَعُهُ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ" أَبُو خِدَاشٍ هُوَ حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيُّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ حَرِيزٍ، وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: حَبَّانُ بْنُ زَيْدٍ بِالْفَتْحِ.
ابو خداش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی سے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین غزوے لڑے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مسلمان آپس میں تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، گھاس اور آگ میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11832]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي الْكَلَأِ وَالْمَاءِ وَالنَّارِ" أَرْسَلَهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ ثَوْرٍ وَإِنَّمَا أَخَذَهُ ثَوْرٌ عَنْ حَرِيزٍ.
ثور بن یزید رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان گھاس، پانی اور آگ میں شریک ہیں۔“
ثوری نے اسے ثور سے مرسل روایت کیا ہے، اور ثور نے اسے حریز ہی سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11833]
ثوری نے اسے ثور سے مرسل روایت کیا ہے، اور ثور نے اسے حریز ہی سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11833]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11834
أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، ثنا ثَوْرٌ، عَنْ حَرِيزٍ، عَنْ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَوْ ثَلَاثَ غَزَوَاتٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ" قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا حَفْصٍ يَقُولُ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ مُعَاذًا، فَحَدَّثَنِي ⦗٢٤٩⦘ قَالَ: حَدَّثَنِي حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانَ بْنُ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو حَفْصٍ: ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فَحَدَّثَنَا بِهِ، أَظُنُّهُ عَنْ حَرِيزٍ، ثنا حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيُّ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَحْدَهُ يَقُولُ: حَبَّانَ.
ابو خداش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے یا تین غزوے لڑے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، گھاس اور آگ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11834]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح