السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2952. -- باب: ما يجوز أن يكون مهرا
-- باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ:" الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ. قَالَ:" وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کردیا اور وہ بہت زیادہ دیر کھڑی رہی، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو میرا نکاح (اس سے) کردیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”حق مہر دینے کے لیے تیرے پاس کیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری یہ چادر ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے چادر دے دی تو تیرے پاس کچھ نہ بچے گا، کچھ اور تلاش کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”میرے پاس کچھ نہیں ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ملے۔“ تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے اس قرآن کے عوض کردیا۔“ ابو حازم کی روایت میں ہے: ”اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1425»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٣٨٦⦘ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ"، فَذَهَبَ فَطَلَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا قَالَ:" اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" قَالَ: فَذَهَبَ فَطَلَبَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا، قَالَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ:" اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
ابوحازم نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک عورت کھڑی ہوئی، اس نے کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ میرے بارے میں اپنی رائے فرمائیں، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نکاح (اس سے) کر دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا، پھر عورت نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ میرے بارے میں اپنی رائے فرمائیں، پھر اس شخص نے کہا: آپ میرا نکاح کر دیں، پھر تیسری مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو۔“ لیکن تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔“ پھر وہ شخص گیا تو آکر کہنے لگا: مجھے کچھ بھی نہیں ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا میں نے تیرا نکاح اس قرآن کے عوض کر دیا جو تیرے پاس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14360
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ:" مَهْيَمْ أَوْ مَهْ؟"، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَالَ:" عَلَى كَمْ؟" قَالَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کے نشانات دیکھے تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے حق مہر کے عوض؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» ”اللہ تجھے برکت دے، ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1427»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14361
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ وَسَأَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، ⦗٣٨٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی خوشی دیکھی تو پوچھا، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے ایک کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض ایک عورت سے شادی کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14362
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُهَاجِرًا فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: لِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيَّتَهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا، وَلِي مَالٌ فَنِصْفُهُ لَكَ، فَقَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ قَالَ: فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَاءَ بِأَشْيَاءَ، ثُمَّ فَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ:" مَهْيَمْ؟"، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ:" عَلَى كَمْ؟" قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ: وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَصَابَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ رَبِحَهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا بھائی بنا دیا، تو سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: میری دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا اور میرا نصف مال آپ کے لیے ہے، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ» ”اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے، آپ مجھے بازار کا راستہ بتائیں“، تو انہوں نے بتا دیا، وہ کچھ اشیاء لے کر ہی واپس پلٹے، پھر (کچھ دن) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ دیکھا، پھر وہ آئے تو ان پر زردی کے نشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کتنے حق مہر کے عوض؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض یا کہا: گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض۔ فرمایا: ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“
(ب) حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اس طرح روایت فرماتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے گھی یا پنیر خریدا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع ہی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14362]
(ب) حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اس طرح روایت فرماتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے گھی یا پنیر خریدا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع ہی دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14363
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14364
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَازَ ذَلِكَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: فَجَازَ ذَلِكَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی، وہ جائز تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14365
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" قُوِّمَتْ يَعْنِي النَّوَاةَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَثُلُثًا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ گٹھلی تین درہم اور ایک تہائی کے برابر ہوئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14365]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14366
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، أَنَّ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قُوِّمَتْ خَمْسَ دَرَاهِمَ" وَهَذَا أَشْبَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری عورت سے ایک کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض شادی کی، جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔
یہ (روایت) زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14366]
یہ (روایت) زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14366]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14367
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" قَوْلُهُ نَوَاةٌ يَعْنِي خَمْسَةَ دَرَاهِمَ قَالَ: وَخَمْسَةُ دَرَاهِمَ تُسَمَّى نَوَاةَ ذَهَبٍ، كَمَا تُسَمَّى الْأَرْبَعُونَ أُوقِيَّةً، وَكَمَا تُسَمَّى الْعِشْرُونَ نَشًّا".
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «نَوَاةٌ» ”نواۃ“ یعنی پانچ درہم، پانچ درہموں کو «نَوَاةٌ مِنْ ذَهَبٍ» ”نواۃ من ذہب“ سے تعبیر کر دیا، جیسے 40 کو «أُوقِيَّةٌ» ”اوقیہ“ کہہ دیتے ہیں اور 20 کا نام «نَشٌّ» ”نش“ رکھ دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14367]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف