🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3021. -- باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول
-- باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14686
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَعْلِنُوا النِّكَاحَ" تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ عَامِرٍ.
عامر بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نکاح کا اعلان کیا کرو۔“
اسے عامر سے بیان کرنے میں عبداللہ بن اسود منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14686]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَقَلْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ اللهْوَ" ⦗٤٧١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: زَنَتِ امْرَأَةٌ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک انصاری عورت کو اس کے خاوند کے پاس منتقل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی کھیل ہے؟ کیونکہ انصاری کھیل کو پسند کرتے ہیں۔“
(ب) محمد بن سابق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کی رخصتی کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14687]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5163»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُسَدَّدٌ، نا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ الدُّفَّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ:.
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، جس صبح میری رخصتی کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے آپ بیٹھے ہیں اور بچیاں دف بجانے لگیں، وہ میرے ابا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ان کا مرثیہ پڑھ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک بچی نے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑو وہی بات کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14688]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5147»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: كَانَ النِّسَاءُ إِذَا تَزَوَّجَتِ الْمَرْأَةُ أَوِ الرَّجُلُ خَرَجَ جَوَارِي مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ وَيُغَنِّينَ وَيَلْعَبْنَ، قَالَتْ: فَمَرُّوا فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يُغَنِّينَ وَهُنَّ يَقُلْنَ.
سیدہ عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب کسی مرد یا عورت کی شادی ہوتی تو انصاری بچیاں گاتیں اور کھیلتیں۔ سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مجلس سے گزر ہوا تو وہ بچیاں گاتے ہوئے کہہ رہی تھیں:
اس کے خاوند نے تحفہ میں مینڈھے دیے جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور اس کا خاوند لوگوں میں ایسا انسان ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف گئے اور فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کل کی بات کوئی نہیں جانتا، تم اس طرح کہو:
ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں خوش آمدید ہو اور تمہیں مبارک ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14689]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14690
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو حَاتِمِ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ الْهَرَوِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُوَيْسِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَاسًا يُغَنُّونَ فِي عُرْسٍ وَهُمْ يَقُولُونَ:.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کے موقع پر لوگوں کو گاتے ہوئے سنا کہ اس عورت کو خاوند نے مینڈھے تحفے میں دیے ہیں جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور تیری محبت لوگوں میں سے ایسے انسان کے ساتھ ہے جو کل کی بات کو جانتا ہے۔
یحییٰ کہتے ہیں: تیرا خاوند ایسا انسان ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل کی بات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14690]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14691
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ نا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْبَزَّارِيُّ أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو كَامِلٍ الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَنْكَحَتْ ذَا قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟" قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَرْسَلْتُمْ مَنْ تُغَنِّي؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ أَرْسَلْتُمْ مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنی قریبی رشتہ دار عورت کا نکاح کروایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”کیا تم نے لڑکی کو اس کے خاوند کے پاس رخصت کر دیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس کے ساتھ تم نے کسی گانے والی کو بھیجا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاری لوگ گانے کو پسند کرتے ہیں۔ اگر تم بھیج دیتے جو یہ کہتا: «أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيُّونَا نُحَيِّكُمْ» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں بھی خوش آمدید اور تمہیں بھی۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14691]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ الْبَجَلِيَّ، يَقُولُ: شَهِدْتُ ثَابِتَ بْنَ وَدِيعَةَ وَقَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا غِنَاءٌ، فَقُلْتُ لَهُمَا فِي ذَلِكَ فَقَالَا:" إِنَّهُ قَدْ رُخِّصَ فِي الْغِنَاءِ فِي الْعُرْسِ وَالْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ فِي غَيْرِ نِيَاحَةٍ" وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
عامر بن سعد بجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ثابت بن ودیعہ اور سیدنا قرظہ بن کعب انصاری رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک شادی میں موجود تھا جس میں گانا گایا جا رہا تھا تو میں نے ان دونوں سے کہا تو وہ فرمانے لگے: ”شادی کے موقع پر گانے میں رخصت دی گئی ہے اور میت پر بغیر نوحہ کے رونے کی اجازت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14692]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1221»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14693
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَذَكَرَ ثَالِثًا قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: ذَهَبَ عَلَيَّ وَجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيُغَنِّينَ فَقُلْتُ: تُقِرُّونَ عَلَى هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا:" إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي الْعُرُسَاتِ وَالنِّيَاحَةِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ" وَرَوَاهُ شَرِيكٌ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ قَرَظَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ قَالَ فِي غَيْرِ نَوْحٍ.
عامر بن سعد بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے تیسرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں کہ اس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ بچیاں دف بجا کر گا رہی تھیں، میں نے کہا: ”تم اس کو برقرار رکھتے ہو حالانکہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”شادی کے موقع پر ہمیں رخصت دی گئی اور مصیبت کے وقت نوحہ کرنے کی۔“
(ب) شریک فرماتے ہیں کہ قرظہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے، شریک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کے رونے کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14693]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بَلْجٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ".
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال و حرام کے درمیان فاصلہ کرنے والی چیز آواز ہے اور نکاح کے موقع پر دف بجانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14694]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14695
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْعَنَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ زَعَمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ الدُّفَّ لُغَةً، وَالْخَبَرُ بِالْفَتْحِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ الصَّوْتُ فَبَعْضُ النَّاسِ يَذْهَبُ بِهِ إِلَى السَّمَاعِ وَهَذَا خَطَأٌ وَفِيمَا مَعْنَاهُ عِنْدَنَا إِعْلَانُ النِّكَاحِ وَاضْطِرَابُ الصَّوْتِ بِهِ وَالذِّكْرُ فِي النَّاسِ وَلِذَلِكَ قَالَ عُمَرُ.
ہشیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دف بجانا نکاح کے موقع پر ہے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ «الدُّفُّ» لغوی اعتبار سے اور «الْخَبَرُ» فتح کے ساتھ لیکن «الصَّوْتُ» یعنی لوگوں کے نزدیک «السَّمَاعُ» مراد ہے، یہ غلطی ہے؛ ہمارے نزدیک اس کا معنی نکاح کا اعلان، آواز پیدا کرنا اور لوگوں میں شہرت کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14695]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں