السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3090. -- باب: لا يجوز طلاق الصبي حتى يبلغ، ولا طلاق المعتوه حتى يفيق
-- باب: اس بیان میں کہ بچے کی طلاق بالغ ہونے تک اور پاگل کی طلاق ہوش میں آنے تک جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15109
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ" وَرُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْإِجَازَةِ فِي الْقِتَالِ وَقَدْ مَضَى.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے آدمیوں سے قلم اٹھالی گئی ہے: سونے والا جب تک بیدار نہ ہوجائے اور بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور پاگل جب تک عقل مند نہ ہوجائے۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے قتال میں اجازت پر دلیل لی ہے اور وہ گزر چکی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15109]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے قتال میں اجازت پر دلیل لی ہے اور وہ گزر چکی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15109]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 15110
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ" وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالْحَسَنِ وَإِبْرَاهِيمَ أَنَّهُمْ قَالُوا:" لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَلَا عِتْقُهُ حَتَّى يَحْتَلِمَ"، وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَأَبِي قِلَابَةَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُجِيزُونَ طَلَاقَ الْمُبَرْسَمِ، ⦗٥٨٩⦘ وَعَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ فِي الَّذِي يُطَلِّقُ وَيَعْتِقُ فِي الْمَنَامِ قَالَا:" لَيْسَ بِشَيْءٍ".
عابس بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ (دیوانے) کی طلاق کے۔
(ب) شعبی، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ یہ تمام حضرات فرماتے ہیں کہ بچے کا طلاق دینا اور غلام آزاد کرنا جائز نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔
(ج) جابر بن زید، ابراہیم اور ابو قلابہ رحمہم اللہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا شخص کی طلاق کو جائز خیال نہیں کرتے۔ شعبی اور ابراہیم رحمہم اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو خواب میں طلاق دیتا ہے اور غلام آزاد کر دیتا ہے: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15110]
(ب) شعبی، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ یہ تمام حضرات فرماتے ہیں کہ بچے کا طلاق دینا اور غلام آزاد کرنا جائز نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔
(ج) جابر بن زید، ابراہیم اور ابو قلابہ رحمہم اللہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا شخص کی طلاق کو جائز خیال نہیں کرتے۔ شعبی اور ابراہیم رحمہم اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو خواب میں طلاق دیتا ہے اور غلام آزاد کر دیتا ہے: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15110]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح