السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3091. -- باب: من قال: يجوز طلاق السكران وعتقه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ نشے میں دھت شخص کی طلاق اور اس کا آزاد کرنا نافذ (جائز) ہے۔
حدیث نمبر: 15111
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ" قَالَ يَعْقُوبُ، وَقَالَ قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ.
عابس بن ربیعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ (دیوانے) کی طلاق کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15111]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ طَلَاقِ السَّكْرَانِ، فَقَالَا:" إِذَا طَلَّقَ السَّكْرَانُ جَازَ طَلَاقُهُ وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ"، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ:" طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَعِتْقُهُ جَائِزٌ"، وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ:" السَّكْرَانُ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَعِتْقُهُ وَلَا يَجُوزُ شِرَاءُهُ وَبَيْعُهُ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ دونوں سے نشہ کرنے والے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: جب نشہ کرنے والا شخص طلاق دے تو اس کی طلاق جائز ہے، اگر وہ قتل کرتا ہے تو اسے قتل کیا جاتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہمارا فتویٰ ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کا طلاق دینا اور غلام آزاد کردینا جائز ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کی طلاق اور غلام آزاد کردینا جائز ہے لیکن اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15112]
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کا طلاق دینا اور غلام آزاد کردینا جائز ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کی طلاق اور غلام آزاد کردینا جائز ہے لیکن اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15112]
تخریج الحدیث: «حسن۔ عن ابن المسيب فقط»
الحكم على الحديث: حسن