السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3128. -- باب: الزوج يقذف امرأته فيخرج من موجب قذفه بأن يأتي بأربعة شهود يشهدون عليها الزنا أو يلتعن
-- باب: اس بیان میں کہ شوہر اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو وہ اس تہمت کے وبال سے اس طرح نکلے گا کہ یا تو وہ ایسے چار گواہ لائے جو اس پر زنا کی گواہی دیں یا پھر وہ لعان کرے۔
حدیث نمبر: 15291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَرَّاقُ، قَالُوا: ثنا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ؟ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْبَيِّنَةُ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ"، فَقَالَ هِلَالٌ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، فَنَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَنَزَلَتِ الْآيَةُ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: ٦] فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: ٩] قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ {الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: ٩] قَالُوا لَهَا: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ فَمَضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ"، فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ" ⦗٦٤٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ پیش کرو، ورنہ تیری کمر پر کوڑے لگیں گے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے شروع کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، گواہ پیش کرنا ہوں گے، بصورت دیگر تیری کمر پر کوڑے برسیں گے۔“ اس پر ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، بلاشبہ میں سچا ہوں۔ یقیناً اللہ حکم نازل کرے گا جو میری کمر کو کوڑوں سے بچا دے گا، پس جبرائیل نازل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَاءُ اِلَّا اَنفُسُہُمْ﴾ الی ﴿وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة النور: 6-9] ”اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور اپنے علاوہ کوئی گواہ نہیں پاتے۔۔۔ الی قولہٖ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا اگر وہ سچوں میں سے ہوا۔“ تو اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو بلایا، ہلال نے اپنی صداقت کی گواہی دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ پھر اس کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی صداقت کی گواہی دی۔ جب وہ پانچویں بار گواہی دینے والی تھی تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: پانچویں بار کی گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی، اگر خاوند سچا ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عورت جھجکی اور پیچھے ہٹ گئی، ہم نے محسوس کیا کہ وہ اپنے موقف سے پھر جائے گی لیکن اس نے کہا: میں اپنی قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رسوا نہ کروں گی، پھر اس نے گواہی کو مکمل کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر اس نے بچہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا جنا تو یہ شریک بن سحماء کا ہے“ جب اس نے اسی (بیان کردہ) صفت والا بچہ جنا تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتاب اللہ کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس عورت سے نپٹتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15291]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4747»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15292
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيَّ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: ٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ فَلَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا مُتَفَخِّذُهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُحَرِّكَهُ وَلَا أَهِيجَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللهِ لَا آتِي بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدِكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَلُمْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ وَاللهِ مَا تَزَوَّجَ فِينَا قَطُّ إِلَّا عَذْرَاءَ وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ، قَالَ سَعْدٌ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّهَا لَحَقٌّ وَأَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللهِ وَلَكِنِّي عَجِبْتُ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ عِشَاءً مِنْ حَائِطٍ لِي كُنْتُ فِيهِ فَرَأَيْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا وَرَأَيْتُ بِعَيْنِيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنِيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَقِيلَ أَيُجْلَدُ هِلَالٌ وَتُبْطَلُ شَهَادَتُهُ فِي الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ هِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِكَ أَنَّكَ تَكْرَهُ مَا جِئْتُ بِهِ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِي فَرَجًا قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ تَرَبَّدَ لِذَلِكَ خَدُّهُ وَوَجْهُهُ وَأَمْسَكَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: أَبْشِرْ يَا هِلَالُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْعُوهَا" فَدُعِيَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" فَقَالَ هِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا قُلْتُ إِلَّا حَقًّا وَلَقَدْ صَدَقْتُ، قَالَ: فَقَالَتْ هِيَ عِنْدَ ذَلِكَ: كَذَبَ، قَالَ: فَقِيلَ لِهِلَالٍ: تَشْهَدُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّكَ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَقِيلَ لَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ يَا هِلَالُ اتَّقِ اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللهُ أَبَدًا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا، قَالَ: فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ: اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ لَهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ: يَا هَذِهِ اتَّقِي اللهَ فَإِنَّ عَذَابَ اللهِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ النَّاسِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَسَكَتَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى" ⦗٦٤٨⦘ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُثَيْبِجَ أُصَيْهِبَ أُرَيْسِحَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا فَهُوَ لِصَاحِبِهِ"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْإِلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا أَمْرٌ" قَالَ عَبَّادٌ: فَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ وَلَا يُدْرَى مَنْ أَبُوهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ [سورة النور: 4] ”وہ لوگ جو پاک دامن بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لاتے۔“ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کیا یہ ایسے نازل ہوئی؟ اگر میں کسی بدکار عورت کو اس حال میں پاؤں کہ ایک مرد اس کی رانوں کے درمیان ہو تو مجھے اسے ہلانے یا چھیڑنے کا بھی حق نہ ہو یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں؟ اللہ کی قسم! میں چار گواہ نہیں لا پاؤں گا یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کر چکا ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کا گروہ! کیا تم اپنے سردار کی بات کو سن رہے ہو، وہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو ملامت نہ کیجیے، یہ بڑا غیرت مند شخص ہے، اللہ کی قسم! اس نے ہمیشہ کنواری لڑکی سے ہی شادی کی ہے اور جب بھی اس نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی تو اس کی شدت غیرت کی وجہ سے ہم میں سے کسی شخص کو اس سے نکاح کرنے کی جرات نہ ہوئی، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جانتا ہوں یہ حق ہے اور اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے کہ اچانک سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ ان تینوں شخصوں میں سے ایک ہیں، جن کی اللہ نے توبہ قبول کی تھی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں گزشتہ رات شام کے وقت اپنے باغ میں آیا، میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو دیکھا، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کو ناپسند کیا اور کہا گیا: کیا ہلال کو کوڑے لگائے جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیان اس کی شہادت کو باطل کردیا جائے گا؟ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی بات کی وجہ سے آپ کے چہرے پر کراہت محسوس کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں اللہ میرے لیے نکالنے کی راہ بنا دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے کہ وحی نازل ہوگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں اور چہرے کی رنگت تبدیل ہوجاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بات کرنے سے رک جاتے، جب وحی مکمل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ہلال! خوش ہوجاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو بلاؤ۔“ اس کی بیوی کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے سچ کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے کہا: اس نے آپ کے پاس جھوٹ بولا ہے، تو ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے کہا گیا کہ آپ چار مرتبہ گواہی دیں کہ آپ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں گواہی کے موقع پر ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اور پانچویں گواہی عذاب الٰہی کو واجب کرنے والی ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیں گے، جیسے اس نے مجھ پر کوڑے نہیں برسائے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے پانچویں مرتبہ کی گواہی مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے، پھر اس کی بیوی سے کہا گیا کہ تو چار گواہیاں دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں گواہی کے موقع پر کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، اللہ کا عذاب لوگوں کی سزا سے زیادہ سخت ہے، یہ پانچویں بار کی گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کرنے والی ہے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کرسکتی، اس نے پانچویں بار کی گواہی دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچوں میں سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ عورت اور اس کے بچے پر تہمت نہ لگائی جائے گی، جس نے عورت اور اس کے بچے پر تہمت لگائی اس پر حد لگائی جائے گی اور مرد کے ذمہ اس عورت کی خوراک اور رہائش بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ بغیر طلاق اور خاوند کے فوت ہوئے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا اگر وہ موٹے موٹے سرینوں، بھورے رنگ، باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے۔ اگر وہ موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں، خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے تو شریک بن سحماء کا ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ اس نے خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں، موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہوچکی ہوتیں تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا۔“
عباد کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ شہروں کا امیر رہا، لیکن اس کے باپ کا علم نہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15292]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کا گروہ! کیا تم اپنے سردار کی بات کو سن رہے ہو، وہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو ملامت نہ کیجیے، یہ بڑا غیرت مند شخص ہے، اللہ کی قسم! اس نے ہمیشہ کنواری لڑکی سے ہی شادی کی ہے اور جب بھی اس نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی تو اس کی شدت غیرت کی وجہ سے ہم میں سے کسی شخص کو اس سے نکاح کرنے کی جرات نہ ہوئی، سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جانتا ہوں یہ حق ہے اور اللہ کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے کہ اچانک سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آگئے، یہ ان تینوں شخصوں میں سے ایک ہیں، جن کی اللہ نے توبہ قبول کی تھی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں گزشتہ رات شام کے وقت اپنے باغ میں آیا، میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو دیکھا، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کو ناپسند کیا اور کہا گیا: کیا ہلال کو کوڑے لگائے جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیان اس کی شہادت کو باطل کردیا جائے گا؟ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی بات کی وجہ سے آپ کے چہرے پر کراہت محسوس کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں اللہ میرے لیے نکالنے کی راہ بنا دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں تھے کہ وحی نازل ہوگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں اور چہرے کی رنگت تبدیل ہوجاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم بات کرنے سے رک جاتے، جب وحی مکمل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ہلال! خوش ہوجاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو بلاؤ۔“ اس کی بیوی کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے سچ کہا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کی بیوی نے کہا: اس نے آپ کے پاس جھوٹ بولا ہے، تو ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے کہا گیا کہ آپ چار مرتبہ گواہی دیں کہ آپ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں گواہی کے موقع پر ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اور پانچویں گواہی عذاب الٰہی کو واجب کرنے والی ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! اللہ مجھے کبھی عذاب نہ دیں گے، جیسے اس نے مجھ پر کوڑے نہیں برسائے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے پانچویں مرتبہ کی گواہی مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے، پھر اس کی بیوی سے کہا گیا کہ تو چار گواہیاں دے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں گواہی کے موقع پر کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، اللہ کا عذاب لوگوں کی سزا سے زیادہ سخت ہے، یہ پانچویں بار کی گواہی تجھ پر عذاب کو واجب کرنے والی ہے، وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کرسکتی، اس نے پانچویں بار کی گواہی دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچوں میں سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ عورت اور اس کے بچے پر تہمت نہ لگائی جائے گی، جس نے عورت اور اس کے بچے پر تہمت لگائی اس پر حد لگائی جائے گی اور مرد کے ذمہ اس عورت کی خوراک اور رہائش بھی نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ بغیر طلاق اور خاوند کے فوت ہوئے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہوئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا اگر وہ موٹے موٹے سرینوں، بھورے رنگ، باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے۔ اگر وہ موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں، خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے تو شریک بن سحماء کا ہے۔“
راوی کہتے ہیں کہ اس نے خاکی رنگ، گنگھریالے بالوں، موٹی پنڈلیوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہوچکی ہوتیں تو پھر میں اس عورت سے نپٹتا۔“
عباد کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ شہروں کا امیر رہا، لیکن اس کے باپ کا علم نہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15292]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح