🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3129. -- باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن
-- باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q15293
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لَمَّا ذَكَرَ اللهُ اللِّعَانَ عَلَى الْأَزْوَاجِ مُطْلَقًا كَانَ اللِّعَانُ عَلَى كُلِّ زَوْجٍ جَازَ طَلَاقُهُ وَلَزِمَهُ الْفَرْضُ، وَكَذَلِكَ عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ لَزِمَهَا الْفَرْضُ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے شوہروں پر لعان کو مطلق طور پر ذکر کیا تو لعان ہر اس شوہر پر ہوگا جس کی طلاق جائز ہو اور جس پر فرائض لازم ہوں، اور اسی طرح ہر اس بیوی پر ہوگا جس پر فرائض لازم ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: Q15293]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15293
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ قِصَّةَ اللِّعَانِ بِطُولِهَا وَفِي آخِرِهَا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ"، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: فَسُمِّيَ اللِّعَانُ يَمِينًا.
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے لعان کا لمبا قصہ ذکر کیا، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قسمیں نہ ہو چکی ہوتیں تو میں اس عورت سے نپٹتا۔“ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لعان کا نام قسم بھی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15293]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، نا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ قِيلَ لَهُ: وَاللهِ لَيَحُدَّنَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً قَالَ: اللهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَوْثَقْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَبَنْتُ لَا وَاللهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتِ الْآيَةُ فَقَالَ:" اللهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَقَالَ لَهُ:" احْلِفْ بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَصَادِقٌ" تَقُولُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَعَلَيَّ لَعْنَةُ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِفُوهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ" فَحَلَفَ ثُمَّ قَالَتْ أَرْبَعًا: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَعَلَيْهَا غَضَبُ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِفُوهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ" ⦗٦٤٩⦘ فَتَرَدَّدَتْ وَهَمَّتْ بِالِاعْتِرَافِ ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ أَدْعَجَ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ أَلِفَ الْفَخِذَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَصْفَرَ قَضِيفًا سَبِطًا فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ"، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى صِفَةِ الْبَغِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: كَانَ الرَّجُلُ الَّذِي قَذَفَهَا بِهِ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ وَكَانَتْ أُمُّهُ سَوْدَاءَ وَكَانَ شَرِيكٌ يَأْوِي إِلَى مَنْزِلِ هِلَالٍ وَيَكُونُ عِنْدَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: فَسَمَّى كَلِمَةَ اللِّعَانِ حَلِفًا.
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے 80 کوڑے لگائیں گے، فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت زیادہ عدل فرمائیں گے کہ وہ مجھے 80 کوڑے لگائیں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھ کر یقین کیا ہے اور سن کر علیحدہ کیا ہے، اللہ کی قسم! آپ مجھے کوڑے نہ لگائیں گے، تو لعان والی آیات نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں، بیوی دونوں کو بلایا جب آیت نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جانتا ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے؟“ تو ہلال نے کہا: میں سچا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ میں سچا ہوں۔ یہ چار مرتبہ قسم کھاؤ۔ اگر میں جھوٹا ہوا تو میرے اوپر اللہ کی لعنت۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچویں قسم پر اسے روکنا، یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ اس نے قسم اٹھا کر چار مرتبہ یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ اگر یہ مرد سچا ہو تو میرے اوپر اللہ کا غضب ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو پانچویں قسم پر روکنا، کیونکہ یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ وہ جھجکی اور اعتراف کا ارادہ کیا، پھر اس نے کہا: میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں، موٹی پیٹھ، موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، اگر یہ زرد رنگ اور سیدھے بالوں والا جنم دے تو یہ ہلال بن امیہ کا ہے۔“ تو اس نے زنا کی صفات والے بچے کو جنم دیا۔ ایوب اور محمد بن سیرین رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جس مرد پر اپنی بیوی کے بارے میں الزام لگایا وہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا بھائی تھا، اس کی والدہ سیاہ رنگ کی تھی اور شریک ہلال کے گھر میں رہتا تھا۔ شیخ نے لعان کو قسم قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15294]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَذَفَ امْرَأَتَهُ أَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ جُوَيْرِيَةَ. وَرُوِّينَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: يُلَاعِنُ كُلُّ زَوْجٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی پر الزام کی وجہ سے دونوں میں تفریق کروا دی، دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسمیں کھائیں، بعد میں آپ نے جدائی کروا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15295]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15296
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ قَالُوا: رَوَى عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَرْبَعٌ لَا لِعَانَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ، الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ عِنْدَ الْحُرِّ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ عِنْدَ النَّصْرَانِيِّ" فَقُلْنَا لَهُمْ: رَوَيْتُمْ هَذَا عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ وَرَجُلٍ غَلَطَ وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو مُنْقَطِعٌ وَاللَّذَانِ رَوَيَا يَقُولُ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَقِفُهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَهُوَ لَا يَثْبُتُ عَنْ عَمْرٍو وَلَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا رَجُلٌ غَلِطَ قَالَ: وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَدْ رَوَى لَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْكَامًا تُوَافِقُ أَقَاوِيلَنَا وَتُخَالِفُ أَقَاوِيلَكُمْ يَرْوِيهَا عَنْهُ الثِّقَاتُ فَيُسْنِدُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَدْتُمُوهَا عَلَيْنَا وَرَدَدْتُمْ رِوَايَتَهُ وَنَسَبْتُمُوهَا إِلَى الْغَلَطِ، فَأَنْتُمْ مَحْجُوجُونَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ بِأَحَادِيثِهِ الَّتِي وَافَقْنَاهَا وَخَالَفْتُمُوهَا فِي نَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ حُكْمًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَفْتُمْ أَكْثَرَهَا فَأَنْتُمْ غَيْرُ مُنْصِفِينَ إِنِ احْتَجَجْتُمْ بِرِوَايَتِهِ ⦗٦٥٠⦘ وَهُوَ مِمَّنْ لَا نُثْبِتُ رِوَايَتَهُ ثُمَّ احْتَجَجْتُمْ مِنْهَا بِمَا لَوْ كَانَ ثَابِتًا عَنْهُ وَهُوَ مِمَّنْ يَثْبُتُ حَدِيثُهُ لَمْ نُثْبِتْهُ لِأَنَّهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”چار قسم کے لوگوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: (1) عیسائی اور یہودی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، (2) آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، (3) اور لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو، (4) عیسائی عورت، عیسائی مرد کے نکاح میں ہو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے ان (اس سے دلیل لینے والوں) سے کہا: تم نے یہ روایت ایک مجہول شخص اور ایک غلطی کرنے والے شخص سے نقل کی ہے، اور عمرو بن شعیب کی عبداللہ بن عمرو سے روایت منقطع ہے، اور جن دو نے اسے روایت کیا ہے ان میں سے ایک اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ہے اور دوسرا اسے عبداللہ بن عمرو پر موقوف کرتا ہے، لہٰذا یہ نہ عمرو سے ثابت ہے اور نہ عبداللہ بن عمرو سے، اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک صرف ایک غلطی کرنے والا شخص پہنچاتا ہے۔
انہوں نے فرمایا: عمرو بن شعیب نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے احکام روایت کیے ہیں جو ہمارے اقوال کے موافق اور تمہارے اقوال کے مخالف ہیں، انہیں ثقہ راوی ان سے روایت کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مسند بیان کرتے ہیں، تو تم نے انہیں ہم پر رد کر دیا، ان کی روایت کو رد کیا اور اسے غلطی کی طرف منسوب کیا۔ پس اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی تقریباً تیس احکام میں، جن میں ہم نے ان کی موافقت کی اور تم نے مخالفت کی، ان کی احادیث تمہارے خلاف حجت ہیں، تم نے ان میں سے اکثر کی مخالفت کی ہے۔ اور اگر وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی روایت ثابت نہیں تو تم انصاف نہیں کر رہے کہ ان کی روایت سے دلیل لیتے ہو، پھر اس میں سے ایسی چیز سے دلیل لیتے ہو جسے، اگر وہ ان سے ثابت بھی ہو اور وہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کی حدیث ثابت ہوتی ہے، ہم ثابت نہ مانتے، کیونکہ یہ ان کے اور عبداللہ بن عمرو کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15296]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15297
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ قُتَيْبَةَ الرَّمْلِيُّ، نا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُمْ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ جِدًّا وَتَابَعَهُ ابْنُ بَزِيعٍ الرَّمْلِيُّ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار قسم کی عورتوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 عیسائی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، 2 یہودیہ مسلم کے نکاح میں ہو، 3 لونڈی آزاد شخص کے نکاح میں ہو، 4 آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو۔“
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: یہ عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ حدیث میں سخت ضعیف ہے، اور ابن بزیع رملی نے عطاء خراسانی سے اس کی متابعت کی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15297]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15298
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، نا أَبُو مُوسَى، نا أَبُو الْوَلِيدِ، نا يَزِيدُ بْنُ بَزِيعٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ أَيْضًا غَيْرُ قَوِيٍّ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث نقل فرماتے ہیں۔
عطاء خراسانی بھی قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15298]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ أَبُو الْفَضْلِ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ لِعَانٌ، لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْأَمَةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْعَبْدِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةِ لِعَانٌ، وَلَيْسَ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ لِعَانٌ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ الْوَقَّاصِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ..
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار کے درمیان لعان نہیں ہوتا: آزاد مرد اور لونڈی کے درمیان، آزاد عورت اور غلام کے درمیان، مسلم اور یہودیہ کے درمیان اور مسلم اور عیسائی عورت کے درمیان۔“
ابوالحسن دارقطنی فرماتے ہیں: عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے، جو متروک الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15299]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: الْوَقَّاصِيُّ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ..
یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: وقاصی کا نام عثمان بن عبدالرحمن ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15300]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الرَّهَاوِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، نا أَبِي، نا عِمَادُ بْنُ مَطَرٍ، نا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ⦗٦٥١⦘ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو وَعِمَادُ بْنُ مَطَرٍ وَزَيْدُ بْنُ رُفَيْعٍ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيِّ فِي حَمَّادِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ وَهُمَا إِمَامَانِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَوْلُهُ لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو بھیجا، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
علی (دارقطنی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن عمرو، عماد بن مطر اور زید بن رفیع ضعیف ہیں، اور ہم نے حماد بن عمرو کے بارے میں یہی بات یحییٰ بن معین اور امام بخاری سے بھی روایت کی ہے۔ دارقطنی فرماتے ہیں: یہ روایت ابن جریج اور اوزاعی سے، جو دونوں امام ہیں، عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے، ان دونوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15301]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں