السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3130. -- باب: أين يكون اللعان
-- باب: لعان کہاں کیا جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15305
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَحَدِ بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا مَا يَفْعَلُ بِهِ؟ فَنَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ اللِّعَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ⦗٦٥٣⦘ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَفُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الزَّوْجَ وَالْمَرْأَةَ فَحَلَفَا بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَإِنَّمَا بَلَغَنَا مَوْصُولًا مِنْ جِهَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْوَاقِدِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابن شہاب رحمہ اللہ دو لعان کرنے والوں کے بارے میں بنو ساعد کے ایک فرد سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تو کیا کرے؟ پھر اس کے بارے میں لعان کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی موجود تھا۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا اور لوگوں میں میں بھی موجود تھا۔
(ج) یونس رحمہ اللہ ابن شہاب رحمہ اللہ یا کسی دوسرے سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کو عصر کے بعد منبر کے نزدیک قسم اٹھانے کا حکم دیا۔
یہ منقطع ہے، اور یہ ہمیں موصول صرف محمد بن عمر واقدی کے طریق سے پہنچی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15305]
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا اور لوگوں میں میں بھی موجود تھا۔
(ج) یونس رحمہ اللہ ابن شہاب رحمہ اللہ یا کسی دوسرے سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کو عصر کے بعد منبر کے نزدیک قسم اٹھانے کا حکم دیا۔
یہ منقطع ہے، اور یہ ہمیں موصول صرف محمد بن عمر واقدی کے طریق سے پہنچی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15305]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15306
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْقَارِيُّ، نا قَعْنَبُ بْنُ مُحَرَّرٍ أَبُو عَمْرٍو، نا الْوَاقِدِيُّ، نا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ لَاعَنَ بَيْنَ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ مَرْجِعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا فَقَالَ: هُوَ مِنِ ابْنِ السَّحْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاتِ امْرَأَتَكَ فَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ فِيكُمَا" فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَلَى حَمْلٍ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عویمر عجلانی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، تبوک سے واپسی پر عویمر نے اپنی بیوی کے حمل کا انکار کر دیا تھا، انہوں نے کہا: یہ حمل ابن سحماء کا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی کو لاؤ، تمہارے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے،“ پھر ان دونوں نے عصر کے بعد منبر کے پاس حمل پر لعان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15306]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15307
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا عَلِيٌّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، نا الْوَاقِدِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اسی طرح (ایک اور سند سے، واقدی سے اسی سند کے ساتھ) اسی کے ہم معنی روایت منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15307]
حدیث نمبر: 15308
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
جابر بن عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15308]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15309
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ نا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، نا الزُّبَيْرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقَاضِي، نا أَبُو ضَمْرَةَ، نا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِسْطَاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْلِفُ رَجُلٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائی اگرچہ سبز مسواک پر تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15309]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح