السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3136. -- باب: كيف اللعان
-- باب: لعان کس طرح کیا جائے؟
حدیث نمبر: Q15340
وَقَدْ رُوِيَ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللهُ الْقُرْآنَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ" فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّى اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ.
اور سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعے میں مروی ہے، (راوی نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا ہے۔“
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اسی طریقے کے مطابق لعان کرنے کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: Q15340]
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اسی طریقے کے مطابق لعان کرنے کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: Q15340]
حدیث نمبر: 15340
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا الْفِرْيَابِيُّ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، نا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَنْزَلَ اللهُ الْقُرْآنَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ" فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّى اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنِ الْفِرْيَابِيِّ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ عویمر عجلانی کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں قرآن نازل کر دیا ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لعان کرنے کا حکم دیا، جس کا نام اللہ نے اپنی کتاب میں لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15340]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15341
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَالِحٍ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا رَمَى امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، هَكَذَا.
نافع عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی اور اپنے بچے کا انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لعان کا حکم دیا تو انہوں نے ویسے لعان کیا جیسے اللہ رب العزت نے فرمایا تھا اور بچے کا فیصلہ عورت کے حق میں کر دیا اور لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15341]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15342
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فِي زَمَنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ هُوَ نَائِمٌ، فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: ابْنُ جُبَيْرٍ، فَأْذَنُوا لَهُ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدًا بِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ أَوْ سَلَبٌ قَالَ: السَّلَبُ يَعْنِي لِيفَ الْمَقْلِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ⦗٦٦٥⦘ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي كُنْتُ سَأَلْتُ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: ٦] إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ قَالَ: فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلِ فَتَلَا عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ فَتَلَا عَلَيْهَا وَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَكَ، لَقَدْ كَذَبَكَ، قَالَ: فَبَدَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَفِي الْخَامِسَةِ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ: ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں مجھ سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق (جدائی) کروا دی جائے گی؟ میں نہ سمجھ سکا کہ میں کیا جواب دوں، چنانچہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو بتایا گیا کہ وہ سو رہے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سن لی تو فرمایا: ”ابن جبیر کو اجازت دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”تم اس وقت کس کام سے آئے ہو؟“ وہ اس وقت اپنی سواری کا کپڑا بچھائے ہوئے تھے اور کھجور کے پتوں (ریشوں) سے بھرے ہوئے چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: اے ابو عبدالرحمن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ ہاں، کیونکہ سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا کرے؟ اگر وہ بات کرتا ہے تو ایک بہت بڑے (سنگین) معاملے کے بارے میں کلام کرے گا، اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو اتنے بڑے معاملے پر ہی خاموش رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جب وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جس مسئلے کے بارے میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، میں خود اس میں مبتلا کر دیا گیا ہوں۔“ تب اللہ رب العزت نے سورہ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ۔ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا کر اسے یہ آیات سنائیں اور واضح نصیحت فرمائی اور فرمایا: ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔“ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس کے سامنے بھی یہ آیات تلاوت فرمائیں، اسے واضح نصیحت کی اور فرمایا: ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اس مرد نے جھوٹ بولا ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے ابتدا فرمائی، اس نے چار مرتبہ اللہ کی گواہی دی (قسم کھائی) کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اس نے چار مرتبہ اللہ کی گواہی دی کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں کہا کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچوں میں سے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کروا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15342]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15343
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَإِنَّمَا أَمَرْتُ بِوَقْفِهِمَا وَتَذْكِيرِهِمَا أَنَّ سُفْيَانَ أنا، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ رَجُلًا لَاعَنَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَالَ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ" وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کروانے والے شخص کو حکم دیا کہ وہ لعان کرنے والے کے منہ پر پانچویں قسم کے موقع پر اپنا ہاتھ رکھ دے اور کہے: ”یہ عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15343]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح