السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3137. -- باب: اللعان على الحمل
-- باب: حمل پر لعان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15344
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ حَدَّثَنِي أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى الْمَوْصِلِيُّ نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمَوَارِيثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَقَدْ رَوَيْنَا قَوْلَهُ: وَكَانَتْ حَامِلًا فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ.
زہری سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، کیا وہ اس کو قتل کر دے؟ کیا تم اسے قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟“ اس کے ساتھ ہی اللہ رب العزت نے لعان کے بارے میں قرآن میں ذکر کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ اس شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس کو اپنی بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے“، تو اس نے جدا کر دیا، تو اس کے بعد یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کر دیا تھا اور بیٹے کی نسبت ماں کی طرف کر دی گئی۔ پھر وراثت میں ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہو گا جو حصے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15344]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أنا أَبُو يَعْلَى، نا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِنْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ، أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَقَالَ:" اللهُمَّ افْتَحْ" وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: ٦] هَذِهِ الْآيَاتِ، فَابْتُلِيَ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ" فَلَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ:" لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا" فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات مسجد میں تھے، ایک انصاری شخص آیا اور اس نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، اگر وہ بات کرے تو تم کوڑے لگاؤ گے، اگر قتل کرے تو تم اسے قتل کر دو گے، اگر خاموش رہے تو غصے والی بات پر خاموش رہے گا، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور سوال کروں گا۔“ جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر سوال کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، وہ ملامت کرے تم کوڑے لگاؤ گے، اگر قتل کرے تو تم قتل کر دو گے، اگر خاموش رہے تو غصے والی بات پر خاموش رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ افْتَحْ» ”اے اللہ! تو اس معاملے کو حل فرما۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرما رہے تھے کہ لعان والی آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور صرف خود ہی گواہ ہیں۔“ یہی شخص اس میں مبتلا کر دیا گیا، تو میاں بیوی نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کیا۔ مرد نے چار گواہیاں دیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کی قسم میں اس نے کہا: ”اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے۔“ وہ عورت لعان کے لیے آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جا۔“ اس نے لعان کر لیا، جب وہ جانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے۔“ تو اس نے سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1495»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15346
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو عُمَرَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ، نا عَبْدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بِالْحَمْلِ".
علقمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل پر لعان کروایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15346]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15347
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ نا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، ح قَالَ: وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ وَاللَّفْظُ لَهُ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: سُئِلَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ وَأَنَا أَرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا، فَقَالَ: إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَاعَنَ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٦٦٧⦘ انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبْطًا أَقْضَى الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ" قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى. وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ" وَفِي كُلِّ ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا عَلَى الْحَمْلِ.
عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہشام بن حسان رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی پر الزام لگا دیا تھا تو ہشام بن حسان رحمہ اللہ نے محمد رحمہ اللہ سے نقل فرمایا کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا، میرے خیال میں ان کے پاس اس بارے میں علم تھا تو فرمانے لگے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگا دیا اور یہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا انتظار کرو۔ اگر یہ سفید، سیدھے بالوں، موٹی آنکھوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے، اگر سیاہ گھنگھریالے بالوں، باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے“، کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سیاہ گھنگھریالے بالوں اور باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مکمل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس سے نمٹتا۔“ یہ تمام احادیث حمل پر لعان کے بارے میں دلالت کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15347]
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مکمل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتاب اللہ کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس سے نمٹتا۔“ یہ تمام احادیث حمل پر لعان کے بارے میں دلالت کرتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15347]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15348
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا، فَانْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا بِقَوْلِي، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا" فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا" فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُوهِمُ أَنَّهُ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْوَضْعِ وَقَدْ يَحْتَمِلُ ⦗٦٦٨⦘ أَنْ يَكُونَ بَعْضُ رُوَاتِهِ قَدَّمَ حِكَايَةً وَضَعَهَا فِي الرِّوَايَةِ عَلَى حِكَايَةِ اللِّعَانِ فَهَذِهِ قِصَّةُ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا، وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذِهِ الْقِصَّةَ وَقَدَّمَ رِوَايَةَ اللِّعَانِ عَلَى حِكَايَةِ الْوَضْعِ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ إِلَّا أَنَّهُ تَرَكَ مِنْ إِسْنَادِهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ.
قاسم بن محمد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا گیا تو عاصم بن عدی نے اس کے بارے میں ایک بات کہی، پھر وہ چلے گئے، پھر ان کی قوم کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور ذکر کیا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پایا ہے۔ عاصم نے کہا: میں اس معاملے میں صرف اپنی بات کی وجہ سے آزمایا گیا ہوں۔ چنانچہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت کی خبر دی جس پر اس نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ اور یہ شخص زرد رنگ، کم گوشت، سیدھے بالوں والا تھا اور جس آدمی کے متعلق دعویٰ کیا، وہ گندم گوں رنگ، بھاری جسم، گھنگھریلے بالوں والا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ تو عورت نے اسی کے مثل بچے کو جنم دیا جس کی خاوند نے مشابہت ذکر کی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو مجلس میں ایک شخص نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ وہ عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو یہ عورت تھی۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، وہ تو ایک اور عورت تھی جو اسلام میں (رہتے ہوئے) برائی کو ظاہر کیا کرتی تھی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان روایات سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد کیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض راویوں سے وضع حمل کی حکایت پہلے بیان کر دی گئی اور لعان کی بعد میں، یہ عویمر عجلانی کا قصہ ہے۔
(ب) زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید سے یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں لعان کا ذکر وضع حمل کی حکایت سے پہلے کیا ہے، جیسا کہ جماعت کی روایت ہے، البتہ انہوں نے اس کی سند سے عبدالرحمن بن قاسم کو چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15348]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان روایات سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد کیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض راویوں سے وضع حمل کی حکایت پہلے بیان کر دی گئی اور لعان کی بعد میں، یہ عویمر عجلانی کا قصہ ہے۔
(ب) زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید سے یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں لعان کا ذکر وضع حمل کی حکایت سے پہلے کیا ہے، جیسا کہ جماعت کی روایت ہے، البتہ انہوں نے اس کی سند سے عبدالرحمن بن قاسم کو چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15348]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15349
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَالِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ: وَعَفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَّارِ قَالَ: فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبِطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى ⦗٦٦٩⦘ السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ" رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ.
قاسم بن محمد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا اپنی بیوی سے کوئی ملاپ نہیں ہوا، جب سے کھجور کو پہلی مرتبہ سیراب کیا گیا تھا،“ (راوی) فرماتے ہیں کہ «عَفَار» ”عفار“ یہ ہے کہ جب کھجوروں کی تابیر (گابھا لگانا) کی جاتی ہے تو چالیس دن تک انہیں پانی نہیں دیا جاتا، تابیر کے بعد انہیں سیراب نہیں کیا جاتا۔ اس شخص نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا،“ اور اس کا خاوند زرد رنگ، باریک پنڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا، جبکہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، وہ گہرے سیاہ رنگ اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کروایا گیا، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہ بچہ جنم دیا جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ ابوالزناد، قاسم بن محمد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ عورت حاملہ تھی اور جس شخص کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا وہ ابن سحماء تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15349]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15350
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ السَّمْدِيُّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نا بُنْدَارٌ، نا أَبُو عَامِرٍ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا"، فَقَالَ زَوْجُهَا: وَاللهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا قَالَ: وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَّارِ شَهْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَ الْمَرْأَةِ حَمْشَ الذِّرَاعَيْنِ وَالسَّاقَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعْرِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ أَسْوَدَ أَكْحَلَ جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ خَدْلَ السَّاقَيْنِ قَالَ الْقَاسِمُ: قَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتِ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حُبْلَى، وَقَالَ زَوْجُهَا: وَاللهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا النَّخْلَ وَذَكَرَ تَفْسِيرَ الْعَفْرِ وَقَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" وَزَعَمُوا أَنَّ زَوْجَ الْمَرْأَةِ كَانَ حَمْشَ الذِّرَاعَيْنِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَجْلَى بَدَلَ أَكْحَلَ وَزَادَ قَطَطًا قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ: نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أنا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَهُ.
قاسم بن محمد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان (لعان) کروایا گیا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔ اس کے خاوند نے کہا: میں اس کے قریب نہیں گیا جب سے ہم کھجور پر گابھا لگا کر فارغ ہوئے ہیں؛ اور عفر کہتے ہیں کہ کھجور کو قلم لگانے کے دو مہینہ کے بعد تک پانی نہ دیا جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملہ واضح فرما۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند کو بلایا، وہ باریک بازو اور پنڈلیوں اور بھورے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ سرمیلی آنکھوں، گھنگھریالے بال، موٹے موٹے بازو اور بھری ہوئی پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ قاسم کہتے ہیں کہ ابن شداد بن الہاد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا یہی عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا“؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس نے اسلام میں اعلانیہ برائی کی تھی۔
(ب) ابن ابی الزناد اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ حاملہ تھی، اور اس کے خاوند نے کہا تھا: میں کھجوروں کو قلم لگانے کے بعد اس کے قریب نہیں گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! اس معاملے کو واضح فرما“ اور ان کا گمان تھا کہ اس کا خاوند باریک بازو والا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15350]
(ب) ابن ابی الزناد اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ حاملہ تھی، اور اس کے خاوند نے کہا تھا: میں کھجوروں کو قلم لگانے کے بعد اس کے قریب نہیں گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! اس معاملے کو واضح فرما“ اور ان کا گمان تھا کہ اس کا خاوند باریک بازو والا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15350]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح