السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3178. -- باب: من قال: امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها يقين وفاته
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک لاپتہ شخص کی بیوی اسی کے نکاح میں رہے گی یہاں تک کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کا یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15561
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ ⦗٧٣٠⦘ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ:" إِنَّهَا لَا تَتَزَوَّجُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں روایت ہے جس کا خاوند گم ہو جائے کہ وہ شادی نہیں کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15561]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15562
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ إِذَا قَدِمَ وَقَدْ تَزَوَّجَتِ امْرَأَتُهُ هِيَ امْرَأَتُهُ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَلَا تُخَيَّرُ" وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس عورت کے متعلق فرماتے ہیں جس کا خاوند گم ہو جائے کہ جب وہ آئے اور عورت نے شادی کر لی ہو تو اگر چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو روک لے اور عورت کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15562]
حدیث نمبر: 15563
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" لَيْسَ الَّذِي قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَيْءٍ يَعْنِي فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ هِيَ امْرَأَةُ الْغَائِبِ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ أَوْ طَلَاقُهَا وَلَهَا الصَّدَاقُ مِنْ هَذَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ" وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَهُوَ قَوْلُ النَّخَعِيِّ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.
حنش سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بات جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے یعنی گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں یہ اسی کی بیوی ہے جو غائب ہو گیا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آ جائے یا اس کی طلاق کی یقینی خبر آ جائے اور اس کے لیے حق مہر ہو گا اس مرد سے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے اور اس کا نکاح باطل ہے۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے، اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15563]
اور ہم کو سعید بن جُبیر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے، اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15563]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15564
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، نا الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ" تُلَوَّمُ وَتَصْبِرُ" وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں لکھا کہ وہ انتظار کرے اور صبر کرے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15564]
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15564]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15565
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، نا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ، نا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَسَوَّارٌ ضَعِيفٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت جس کا خاوند گم ہو جائے وہ اسی کی بیوی ہے حتیٰ کہ اس کے بارے میں وضاحت آ جائے۔“
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15565]
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15565]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف