🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3179. -- باب: من قال: تنتظر أربع سنين ثم أربعة أشهر وعشرا ثم تحل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک وہ عورت چار سال تک انتظار کرے گی، پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے گی، پھر وہ (نکاحِ ثانی کے لیے) حلال ہو جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15566
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ فَقَدَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ تَدْرِ أَيْنَ هُوَ فَإِنَّهَا تَنْتَظِرُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَنْتَظِرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
(١٥٥٦٦) سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس عورت کا خاوند گم ہوجائے اور اسے علم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن انتظار کرے (یعنی عدت گزارے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15566]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلَهِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تُنْكَحُ.
(١٥٥٦٧) ہم کو مالک نے حدیث بیان کی انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انھوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہوجائے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15567]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15568
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَجَّلَ امْرَأَةَ الْمَفْقُودِ أَرْبَعَ سِنِينَ".
(١٥٥٦٨) ابو عمرو الشیبانی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی کی مدت (انتظار) چار سال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15568]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15569
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَلِيُّ زَوْجِهَا ثُمَّ تَرَبَّصُ بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجُ" وَرَوَاهُ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي طَلَاقِ الْوَلِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ الْفَقِيدِ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ فِي قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، وَرَوَاهُ خِلَاسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَرِوَايَةُ ⦗٧٣٢⦘ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَرِوَايَةُ ابْنِ الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلَةٌ وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَرَوَى أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا امْرَأَةَ الْمَفْقُودِ فَقَالَا: تَرَبَّصُ بِنَفْسِهَا أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّفَقَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَهَا نَفَقَتُهَا لِحَبْسِهَا نَفْسِهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا يَضُرُّ ذَلِكَ بِأَهْلِ الْمِيرَاثِ وَلَكِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْهُ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ لَمْ يَقْدَمْ فَلَا شَيْءَ لَهَا.
(١٥٥٦٩) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا خاوند گم ہوجائے کہ وہ چار سال انتظار کرے۔ پھر خاوند کا ولی اس کو طلاق دے۔ پھر وہ اس کے بعد چار ماہ اور دس دن انتظار کرے، پھر شادی کرلے۔ اس کو عاصم احول نے ابو عثمان سے روایت کیا ہے اور ابو عثمان عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل ولی کی طلاق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور اس کو خلاس بن عمرو اور ابو ملیح نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور خلاس کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابو ملیح کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے اور مشہور علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف ہے اور ابو عبید نے اپنی کتاب یزید سے، سعید بن ابی عروبہ سے، جعفر بن ابو وحشیہ سے، عمرو بن ہزم سے اور جابر بن زید سے روایت کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان دونوں نے آپس میں گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے مذاکرہ کیا۔ ان دونوں نے کہا: وہ اپنے نفس کے ساتھ چار سال انتظار کرے پھر وہ وفات کی عدت گزارے۔ پھر انھوں نے خرچے کا ذکر کیا۔ ابن عمر نے کہا: اس کے لیے خرچہ ہوگا۔ اس کے اپنے آپ کو اس مرد پر روکنے کی وجہ سے۔
ابن عباس نے کہا: جب اسے اہل میراث کے ساتھ مجبور کیا جائے اور وہ خرچ کرے۔ اگر اس کا خاوند آجائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15569]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں