السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3179. -- باب: من قال: تنتظر أربع سنين ثم أربعة أشهر وعشرا ثم تحل
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک وہ عورت چار سال تک انتظار کرے گی، پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے گی، پھر وہ (نکاحِ ثانی کے لیے) حلال ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 15567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلَهِ زَادَ ثُمَّ تَحِلُّ وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ: وَقَضَى بِذَلِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تُنْكَحُ.
(١٥٥٦٧) ہم کو مالک نے حدیث بیان کی انھوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور انھوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ پھر وہ حلال ہوجائے۔
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15567]
اور اس کو یونس بن یزید نے زہری سے روایت کیا ہے اور انھوں نے اس میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
اور اس کو ابو عبیدہ نے اپنی کتاب میں محمد بن کثیر سے اوزاعی سے زہری سے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گم شدہ خاوند کی بیوی چار سال انتظار کرے، پھر وہ چار ماہ اور دس دن عدت گزارے پھر نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15567]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15567 in Urdu