السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. -- باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة
-- باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَأَلَ دَاوُدُ السَّرَّاجُ الْحَسَنَ، عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ وَالسَّمُورِ تُدْبَغُ بِالْمِلْحِ؟ فَقَالَ:" دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِي صُوفِ الْمَيْتَةِ: اغْسِلْهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، وَالْحَكَمِ وَحَمَّادٍ أَنَّهُمْ كَرِهُوا اسْتِعْمَالَ شَعْرِ الْخِنْزِيرِ.
حضرت داؤد سراج رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے چیتوں اور سمور کی کھال کے متعلق پوچھا کہ اگر انہیں نمک سے دباغت دی جائے تو انہوں نے فرمایا: ”ان کو دباغت دینا ان کو پاک کرنا ہے۔“
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
(ب) شیخ فرماتے ہیں: حضرت حسن رحمہ اللہ سے مردار کی اون کے متعلق منقول ہے کہ اس کو دھو لیا جائے۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(د) ابن سیرین رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ اور حماد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خنزیر کے بالوں کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه داؤد السراج وهو التقفي المصري»
الحكم على الحديث: ضعيف
20. -- باب في شعر النبي صلى الله عليه وسلم
-- باب: نبی ﷺ کے موئے مبارک کے بیان میں
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَنَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بَيْنَ النَّاسِ"..
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ میں رمی کی اور اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا۔ پھر اپنے سر کی دائیں جانب حجام کے سامنے کی، حجام نے اس کو مونڈ دیا۔ پھر وہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے۔ پھر بائیں جانب اس کے سامنے کی تو اس نے اسے بھی مونڈ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”انھیں لوگوں میں تقسیم کر دے۔“
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
(ب) صحیح مسلم والی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 326»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا أَبَانُ، ثنا يَحْيَى، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، شَهِدَ الْمَنْحَرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ:" فَقَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَلَمْ يُصِبْهُ، وَلَا صَاحِبَهُ". قَالَ:" فَحَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَّمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ، فَإِنْهُ عِنْدَنَا لَمَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ" تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبَانَ. وَالْخِضَابُ مِنْ عِنْدِهِمْ لِكَيْلَا يَتَغَيَّرَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا محمد بن عبداللہ بن زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد قربان گاہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہاں ایک انصاری بھی تھا۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے تو مجھے اور انصاری کو (قربانی) نہ ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے پر اپنا سر منڈوایا تو مجھے وہ بال دے دیے، میں نے آدمیوں میں تقسیم کر دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناخن اتارے اور اپنے ساتھی کو دے دیے، وہ ہمارے پاس بھی ہیں اور وہ مہندی وغیرہ کے ساتھ رنگے ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أحمد 4/42»
الحكم على الحديث: صحيح
21. -- باب المنع من الادهان في عظام الفيلة، وغيرها مما لا يؤكل لحمه
-- باب: ہاتھی اور ان دیگر جانوروں کی ہڈیوں (کے برتنوں) میں تیل رکھنے کی ممانعت کا بیان جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا
حدیث نمبر: 93
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَأَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر کچلیوں والے درندے اور ہر پنجوں والے پرندے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1937»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 94
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْبُوشْنَجِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: وَأنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَدَقَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُكَيْمٍ، ثنا مَشْيَخَةٌ، لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ:" لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِشَيْءٍ".
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں جہینہ قبیلے کے مشائخ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خط لکھا کہ ”مردار کی کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد سبق تخريجه في حديث 41‘42‘43»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ ⦗٤١⦘ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ،" يَكْرَهُ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي مِدْهَنٍ مِنْ عِظَامِ الْفِيلِ لِأَنَّهُ مَيْتَةٌ". هَكَذَا ذَكَرَهُ فِي الْجَدِيدِ. وَرَوَاهُ فِي الْقَدْيمِ كَمَا.
حضرت عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق سنا کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں میں تیل وغیرہ رکھنا ناپسند کرتے تھے، کیونکہ وہ مردار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قد أخرجه المؤلف في معرفة السنن 36»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 96
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" كَرِهَ أَنْ يُدَّهَنَ، فِي عَظْمِ فِيلٍ". وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ عِظَامَ الْفِيلِ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَرِهَ الِانْتِفَاعَ بِعِظَامِ الْفِيَلَةِ وَأَنْيَابِهَا. وَعَنْ طَاوُسٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُمَا كَرِهَا الْعَاجَ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈی سے بنی ہوئی چیز میں تیل رکھنا ناپسند کرتے تھے۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں: وہ ہاتھی کی ہڈیوں کو (استعمال کرنا) ناپسند کرتے تھے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں اور دانتوں سے فائدہ اٹھانا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ج) طاؤس رحمہ اللہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں ہاتھی کے دانت کا استعمال کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ ہاتھی کی ہڈیوں اور دانتوں سے فائدہ اٹھانا مکروہ سمجھتے تھے۔
(ج) طاؤس رحمہ اللہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ دونوں ہاتھی کے دانت کا استعمال کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «باطل»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 97
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا، وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَظَنَّتْ إِنَّمَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ:" يَا ثَوْبَانُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا. يَا ثَوْبَانُ، اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ، وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ هَذَا إِنَّمَا أُنْكِرُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَهُوَ حَدِيثُهُ لَمْ أَعْلَمْ لَهُ غَيْرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عِصْمَةَ، ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، هَذَا، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، قَالُوا: أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: فَحُمَيْدٌ الشَّامِيُّ كَيْفَ حَدِيثُهُ الَّذِي يَرْوِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ؟ فَقَالَ: مَا أَعْرِفُهُمَا. ⦗٤٢⦘ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ مُنْكَرٌ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنے اہل میں سے سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سب سے پہلے تشریف لاتے۔ ایک غزوہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹک رہا تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اندر داخل نہیں ہوئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گمان کیا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ہے، اس نے داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں سے کنگن اتار دیے اور انہیں ان دونوں کے درمیان کاٹ دیا، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور دونوں رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے وہ لے لیا اور فرمایا: ”اے ثوبان! اس کو فلاں کی طرف لے جاؤ (مدینہ میں فلاں گھر کی طرف)، کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں، میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ اپنی پاکیزہ چیزیں دنیا کی زندگی ہی میں کھا لیں۔ اے ثوبان! فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے پٹھوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے دو کنگن خرید کر لے آؤ۔“
ابو احمد بن عدی کہتے ہیں: حمید شامی پر یہی حدیث منکر قرار دی گئی ہے اور میرے علم میں اس کی اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حمید شامی کے بارے میں فرمایا: میں اسے نہیں جانتا۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: میں ان دونوں (حمید شامی اور سلیمان منبہی) کو نہیں جانتا۔ اس بارے میں ایک اور منکر حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
ابو احمد بن عدی کہتے ہیں: حمید شامی پر یہی حدیث منکر قرار دی گئی ہے اور میرے علم میں اس کی اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حمید شامی کے بارے میں فرمایا: میں اسے نہیں جانتا۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: میں ان دونوں (حمید شامی اور سلیمان منبہی) کو نہیں جانتا۔ اس بارے میں ایک اور منکر حدیث بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 4231»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 98
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِهِ الْجُرْجُسِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ طَهُورَهُ وَسِوَاكَهُ وَمِشْطَهُ، فَإِذَا هَبَّهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ اللَّيْلِ اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ وَامْتَشَطَ". قَالَ:" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَشَّطُ بِمُشْطٍ مِنْ عَاجٍ". قَالَ عُثْمَانُ: هَذَا مُنْكَرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ بَقِيَّةَ عَنْ شِيُوخِهِ الْمَجْهُولِينَ ضَعِيفَةٌ. وَقَدْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ الْعَاجُ الذَّبْلُ وَيُقَالُ: هُوَ عَظْمُ ظَهْرِ السُّلَحْفَاةِ الْبَحْرِيَّةِ. وَأَمَّا الْعَاجُ الَّذِي تَعْرِفُهُ الْعَامَّةُ فَهُوَ عَظْمُ أَنْيَابِ الْفِيَلَةِ وَهُوَ مَيْتَةٌ لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سونے کے لیے بستر پر تشریف لاتے تو اپنا پانی والا برتن، مسواک اور کنگھی بھی رکھتے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں بیدار کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے، وضو کرتے اور کنگھی کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی دانت سے بنی ہوئی کنگھی کرتے تھے۔
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور جس عاج کو عام لوگ جانتے ہیں وہ ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی ہے اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔
بقیہ کی اپنے مجہول شیوخ سے روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
(ب) عثمان کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔
(ج) اصمعی کہتے ہیں کہ عاج ذبل کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا: بڑے بحری کچھوے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور جس عاج کو عام لوگ جانتے ہیں وہ ہاتھی کی کچلیوں کی بڑی ہڈی ہے اور وہ مردار ہے، اس کی کسی چیز کا استعمال درست نہیں۔
بقیہ کی اپنے مجہول شیوخ سے روایت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ففيه بقية بن وليد۔ المدلس المعروف»
الحكم على الحديث: ضعيف
22. -- باب المنع من الشرب في آنية الذهب والفضة
-- باب: سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ". ⦗٤٣⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كِلَاهُمَا، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ شُجَاعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، زَادَ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ. وَذِكْرُ الْأَكْلِ وَالذَّهَبِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ. وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ شُجَاعٍ دُونَ ذِكْرِهِمَا. وَاللهُ أَعْلَمُ.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے۔“
(ب) حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک وہ شخص جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھاتا اور پیتا ہے۔“
کھانے اور سونے کا ذکر علی بن مسہر کی روایت کے علاوہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
(ب) حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک وہ شخص جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھاتا اور پیتا ہے۔“
کھانے اور سونے کا ذکر علی بن مسہر کی روایت کے علاوہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5311۔ ومسلم 2065»
الحكم على الحديث: صحيح