🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
25. -- باب التطهر في سائر الأواني من الحجارة والزجاج والصفر والنحاس والشبه والخشب وغير ذلك
-- باب: پتھر، شیشے، پیتل، تانبے، کانسے، لکڑی اور ان کے علاوہ دیگر تمام برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ح. وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَاهَانَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیتل کے برتن میں پانی نکالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دو دو مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا، اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے اور اپنے پاؤں دھوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 197»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْنَاهُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهَ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرُ" قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلِ الْآخَرُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ. وَكَانَتْ عَائِشَةُ، تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ:" أَهْرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ". فَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصَبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَيُقَالُ: إِنَّ ذَلِكَ الْمِخْضَبَ كَانَ مِنْ نُحَاسٍ وَذَلِكَ فِيمَا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھاری ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں میری تیمار داری کی جائے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ وہ (دو آدمی) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کی خبر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دی تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تو جانتا ہے دوسرا آدمی کون تھا؟“ میں نے کہا: نہیں۔ فرماتے ہیں: ”وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتایا کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تھی: ”مجھ پر ایسی سات مشکیں پانی بہاؤ جن کے منہ کھولے نہ گئے ہوں، شاید میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے کپڑے دھونے والے برتن میں بٹھایا گیا۔
پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالنا شروع ہوئیں حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اشارہ کرنا شروع ہوئے کہ کافی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف نکلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 655»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 122
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى مَرَّةً، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ مِنْ نُحَاسٍ، وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ خَرَجَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح..
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: ”مجھ پر پانی کی ایسی سات مشکیں ڈالو جن کے منہ کھولے نہ گئے ہوں، شاید مجھے راحت مل جائے، پھر میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے کپڑے دھونے والے پیتل کے برتن میں بٹھایا۔ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ کافی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں کی طرف) تشریف لے گئے۔
(ب) عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس میں «مِنْ نُحَاسٍ» کے الفاظ نہیں ہیں۔ اسی طرح «ثُمَّ خَرَجَ» کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 6/151»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ نَحْوَهُ:" لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ". كَذَا أَخْبَرَنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ، إِجَازَةً.
عائشہ رضی اللہ عنہا اسی پچھلی روایت کی طرح ہی بیان کرتی ہیں (لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں): ”شاید کہ میں راحت پاؤں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم في المستدرك 1/123»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 124
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ أَبُو عَامِرٍ الْعَدَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَوْرٍ مِنْ شَبَهٍ يُبَادِرُنِي مُبَادَرَةً". جَوَّدَهُ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ، وَقَصَّرَ بِهِ بَعْضُهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، فَقَالَ: عَنْ رَجُلٍ، فَلَمْ يُسَمِّ شُعْبَةَ، وَأَرْسَلَهُ بَعْضُهُمْ، فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُرْوَةَ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی پیتل کے برتن سے غسل کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پانی لینے میں جلدی کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 124]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لغيره أخرجه ابو داؤد 98»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 125
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ:" اسْقِنَا يَا سَهْلُ". قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَسَقَيْتُهُمْ فِيهِ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ إِيَّاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ. وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَدَحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ مِنْ خَشَبٍ، وَيُذْكَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَأَى فِي بَيْتِهِ قَدَحًا مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ فِيهِ وَيَتَوَضَّأُ".
(الف) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرب کی ایک عورت کا تذکرہ کیا گیا۔ پھر لمبی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے اور بنی ساعدہ کے سائبان میں بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سہل! ہم کو پانی پلاؤ۔“ سہل کہتے ہیں: ہم نے آپ کے لیے یہ پیالہ نکالا اور آپ کو اس میں پانی پلایا۔
(ب) ابو حازم کہتے ہیں: سہل نے ہماری طرف یہ پیالہ نکالا، ہم نے اس میں پانی پیا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگا تو انہوں نے دے دیا۔
(ج) محمد بن ابی اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان کے گھر میں لکڑی کا ایک پیالہ دیکھا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں پیتے اور وضو کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه البخاري 5314»

الحكم على الحديث: صحيح أخرجه البخاري 5314
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. -- باب التطهر في أواني المشركين إذا لم يعلم نجاسة
-- باب: مشرکین کے برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جب ان کی نجاست کا علم نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُ عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحْسَبُهُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ أَوْ غَيْرَهُمَا قَالَ:" إِنَّكُمَا سَتَجِدَانِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا امْرَأَةً مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ فَأْتِيَانِي بِهَا" فَأَتَيَا الْمَرْأَةَ فَوَجَدَاهَا قَدْ رَكِبَتْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى الْبَعِيرِ فَقَالَا لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللهِ، هَذَا الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَجَاءَا بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ مِنْ مَزَادَتَيْهَا، ثُمَّ قَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَاءَ فِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِعَزْلَاءِ الْمَزَادَتَيْنِ فَفُتِحَتْ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَمَلَئُوا آنِيَتَهِمْ وَأَسْقِيَتَهُمْ، فَلَمْ يَدَعُوا يَوْمَئِذٍ إِنَاءً وَلَا سِقَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَانَ يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَنَّهَا لَمْ تَزْدَدْ إِلَّا امْتِلَاءً. قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهَا فَبُسِطَتْ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَجَاءُوا مِنْ زَادِهِمْ حَتَّى مَلَئُوا لَهَا ثَوْبَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" اذْهَبِي، فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ سَقَانَا". قَالَ: فَجَاءَتْ أَهْلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُمْ ⦗٥٢⦘ فَقَالَتْ: جِئْتُكُمْ مِنْ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللهِ حَقًّا قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ ذَلِكَ الْحِوَاءِ حَتَّى أَسْلَمَوا كُلُّهُمْ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، وَفِيهِ: فَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ". وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں گئے، انھیں سخت پیاس لگ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی آئے۔ میرا گمان ہے کہ وہ علی اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے یا شاید ان کے علاوہ کوئی اور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں فلاں جگہ پر ایک عورت کو پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہوگا، اس پر دو مٹکے ہوں گے، تم دونوں اس کو میرے پاس لاؤ۔“ وہ دونوں عورت کے پاس آئے۔ انھوں نے اس کو دیکھا وہ عورت اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے اس سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی: کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ یہی بے دین! (معاذ اللہ) انھوں نے کہا: وہی ہیں جو تم مراد لے رہی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، وہ دونوں اس کو لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مٹکوں سے پانی نکالو اور اس پر کچھ پڑھا۔ پھر پانی کو اس کے مٹکوں میں واپس لوٹا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مشکیزوں کا حکم دیا، ان کو کھولا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، انھوں نے اپنے برتنوں اور مشکیزوں کو بھر لیا اور لوگوں نے اس دن کوئی برتن اور مشکیزہ خالی نہیں چھوڑا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال تھا کہ زیادہ بھر گیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو پھیلانے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنا زادِ راہ لے کر آئیں۔ انھوں نے زادِ راہ سے کپڑے کو بھر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”جاؤ، ہم نے آپ کے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلا دیا ہے۔“
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
اور اس (روایت) میں ہے کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو جنابت کی حالت میں تھا، پانی کا ایک برتن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ.
عوف رحمہ اللہ پچھلی روایت کے ہم معنی کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 3/213»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، أنا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ، فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ"، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہمیں مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔
(ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابو داؤد 3838»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَاءِ نَصْرَانِيَّةٍ فِي جَرَّةِ نَصْرَانِيَّةٍ".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نصرانی کے مٹکے میں موجود پانی سے وضو کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المولف في سننه الصغري 221»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں