السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. جماع أبواب السواك -- باب في فضل السواك
مسواک کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: مسواک کی فضیلت کے بیان میں
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْهَاشِمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک منہ کی صفائی کا سبب اور رب کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ:" بِالسِّوَاكِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ.
مقدام بن شریح بن ہانی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز کے ساتھ ابتدا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مسواک کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 43»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 142
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَاكُ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" عَا عَا". وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ".
(الف) ابن ابی موسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ کے ساتھ مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے «عَاْ عَاْ» کی آواز آرہی تھی۔
( «عَاْ عَاْ») مسواک کرتے وقت جو آواز نکلتی ہے اور مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں تھی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز نکال رہے ہیں۔
(ب) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔
(ج) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں «أُعْ أُعْ» کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 142]
( «عَاْ عَاْ») مسواک کرتے وقت جو آواز نکلتی ہے اور مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں تھی گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز نکال رہے ہیں۔
(ب) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔
(ج) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں «أُعْ أُعْ» کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 241»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں مسواک کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه البخاري 848»
الحكم على الحديث: صحيح أخرجه البخاري 848
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ السِّوَاكِ، فَقَالَ:" مَا زَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِهِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِ".
تمیمی سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسواک کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا حکم دیا کرتے تھے حتیٰ کہ ہم ڈر گئے کہ کہیں یہ فرض نہ ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه الطيالسي 2739»
الحكم على الحديث: صحيح أخرجه الطيالسي 2739
29. -- باب الدليل على أن السواك سنة ليس بواجب
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ مسواک سنت ہے واجب نہیں
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ وَفِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ، وَالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ". زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ السِّوَاكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَأَنَّهُ اخْتِيَارٌ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ وَاجِبًا، أَمَرَهُمْ بِهِ شَقَّ أَوْ لَمْ يَشُقَّ. رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں انھیں عشاء کی نماز مؤخر کرنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسواک واجب نہیں بلکہ اختیاری ہے، اگر واجب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو (مسواک کرنے) حکم دیتے خواہ ان پر مشقت ہی ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسواک واجب نہیں بلکہ اختیاری ہے، اگر واجب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو (مسواک کرنے) حکم دیتے خواہ ان پر مشقت ہی ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 252»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ". هَكَذَا أَخْبَرَنَاهُ فِي الْفَوَائِدِ ⦗٥٨⦘.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں انھیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 146»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 147
وَقَدْ أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ بِرَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ، وَبِشْرِ بْنِ عُمَرَ الزَّهْرَانِيِّ، عَنْ مَالِكٍ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ مَرْفُوعًا، وَهُوَ فِي الْمُوَطَّأِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ دُونَ ذِكْرِ الْوُضُوءِ.
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ والی روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں سند کے ساتھ موقوفاً بیان کیا ہے اور اس میں وضو کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 147]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ والی روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں سند کے ساتھ موقوفاً بیان کیا ہے اور اس میں وضو کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 148
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قال رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ مَعَ الْوُضُوءِ، وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ہر وضو کے ساتھ ان پر مسواک کو فرض کردیتا اور عشا کی نماز کو نصف رات تک مؤخر کردیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/442»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 149
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَظُنُّهُ قَالَ: أَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ، وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ". وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا“ میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں ہر وضو کے ساتھ ان کو مسواک کا اور عشا کی نماز کو ایک تہائی رات تک یا آدھی رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه احمد 2/250»
الحكم على الحديث: صحيح