🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
45. -- باب: إدخال اليمين في الإناء والغرف بها للمضمضة والاستنشاق
-- باب: دایاں ہاتھ برتن میں ڈالنے اور اس سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے چلو بھرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَا: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، دَعَا بِوَضُوءٍ فَأفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، پھر برتن سے پانی اپنے ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ میرے اس وضو کی طرح وضو کیا کرتے تھے، پھر فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو کی طرح کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں، اس کے دل میں کوئی برا خیال پیدا نہیں ہوا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 162»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. -- باب: كيفية المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُتِيَ بِوَضُوءٍ أَوْ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَلَأَ فَمَهُ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ ⦗٨١⦘ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ فَرَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدْمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدْمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا یا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی تھا۔ آپ نے برتن سے پانی اپنے ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اپنے منہ کو بھرا اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے ناک کو جھاڑا، ایسا تین مرتبہ کیا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا یہاں تک کہ وہ پانی سے تر ہو گیا تو اس تر ہاتھ کو اوپر اٹھایا اور اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے ساتھ تر کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ ایک ہی مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ دائیں پاؤں پر پانی ڈالا، پھر اس کو اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ دھویا، پھر تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں پاؤں پر پانی ڈالا، اس کو اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ دھویا، پھر فرمایا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے، جس شخص کو یہ پسند ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کو دیکھے تو یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 221]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مَاءً، ثُمَّ لِيَنْثُرَ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی وضو کرے تو وہ اپنی ناک کے نتھنوں میں پانی چڑھائے، پھر اس کو جھاڑے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 2371»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَإِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ لِيَنْتَثِرَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو وہ اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر اسے جھاڑ دے اور ڈھیلا طاق عدد میں استعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 223]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 160»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. -- باب: سنة التكرار في المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں تکرار (تین بار کرنے) کی سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ⦗٨٢⦘ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الظَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا التَّكْرَارَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ. وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَبَحْرِ بْنِ نَصْرٍ هَكَذَا، وَهُمَا ثِقَتَانِ. وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِيَ التَّكْرَارُ فِيهِمَا عَنْ عُثْمَانَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
(الف) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دن وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا۔
(ب) ایک حدیث کے آخر میں ہے کہ ”ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرح وضو کیا۔“ (ج) صحیح مسلم میں ابوطاہر اور حرملہ، ابن وہب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں تکرار کا ذکر نہیں کیا۔ (د) حدیث میں ابن عبدالحکم اور بحر بن نصر رحمہما اللہ ثقہ راوی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِالْمَيْضَاةِ، فَأَكْفَأَهَا عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي آخِرِهِ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو عَلْقَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، وَثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِّينَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب ان سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، پھر ایک چھوٹا برتن لایا گیا، آپ نے اس کو اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اس کو پانی میں داخل کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔۔۔ حدیث کے آخر میں ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابو علقمہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح نقل کیا ہے: اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 8/1»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، وَأَبُو ثَابِتٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ وضو کرے اور تین مرتبہ ناک جھاڑے، اس لیے کہ شیطان اس کے ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 21/3»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ يَعْنِي ابْنَ ⦗٨٣⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَضْمَضَ أَحَدُكُمْ، وَاسْتَنْشَقَ فَلْيَفْعَلْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
ابوغطفان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں دو مرتبہ پانی چڑھایا اور کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے تو اچھی طرح دو یا تین مرتبہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداؤد 141»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. -- باب: المبالغة في الاستنشاق إلا أن يكون صائما
-- باب: ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنے کا بیان سوائے اس کے کہ روزہ دار ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَشْيَاءَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ چیزوں کا تذکرہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل وضو کر اور انگلیوں کا خلال کر اور جب تو ناک میں پانی چڑھائے تو مبالغہ کر، سوائے اس کے کہ تو روزہ دار ہو (یعنی روزے کی حالت میں ایسا نہ کر)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 142»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. -- باب: الجمع بين المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح. قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالُوا: أنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قُلْنَا لَهُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ، فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهُمَا فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ⦗٨٤⦘ كِلَاهُمَا عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ كُلَّ مَرَّةٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ بِدَلِيلِ.
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہما بنی نجار قبیلے سے ہیں اور صحابی رسول ہیں، ہم نے ان سے کہا: ”ہمارے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کریں۔“ انہوں نے پانی منگوایا اور اپنی ہتھیلیوں پر ڈالا، اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہاتھ سے ایسا تین مرتبہ کرتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ایک مرتبہ ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ اس کے بعد اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح تھا۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ کہتے ہیں: پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا۔ (واللہ اعلم) یعنی ہر مرتبہ کلی اور ناک میں پانی ایک ہی چلو سے ڈالا، پھر یہ تین مرتبہ کیا تین چلوؤں کے ساتھ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 188»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں