السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. -- باب: الجمع بين المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 230
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ أَبِي حَسَنٍ، سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَتَوَضَّأَ لَهُمْ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنَ التَّوْرِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ ثَلَاثِ غُرَفٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ غَرَفَاتٍ.
(الف) عمرو بن یحییٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرو بن ابی حسن کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا: انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر ان کے لیے وضو کیا، برتن سے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے ہاتھوں کو دھویا، اس کے بعد اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین مرتبہ ناک جھاڑا اور یہ پانی کے تین چلوؤں سے کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے بازوؤں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے آئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ج) ایک روایت میں ہے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 230]
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔
(ج) ایک روایت میں ہے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ ناک جھاڑا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 231
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، وَجَمَعَ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضاء دھو کر وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی اکٹھے چڑھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدارمي 697»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 232
أَخْبَرَنَا أَبُو الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا".
سیدنا عبد خیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نماز پڑھ چکے تھے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا... اس میں ہے کہ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑا جس سے پانی لیا تھا۔
پھر طویل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں ہے: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ جانے تو یہ وہی (طریقہ) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 232]
پھر طویل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں ہے: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ جانے تو یہ وہی (طریقہ) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 111»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْخَيْوَانِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا بِيَدٍ وَاحِدَةٍ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَعَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَلَا أَدْرِي أَدْبَرَ بِهِمَا أَمْ لَا؟ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبد خیر خیوانی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے کرسی لائی گئی، آپ رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھے، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک پانی کے ساتھ کلی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا، پھر ایک ہاتھ سے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنا ہاتھ برتن میں رکھا، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر آگے سے پیچھے لے گئے اور معلوم نہیں کہ ہاتھوں کو پیچھے سے آگے لے آئے تھے یا نہیں اور اپنے پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس کو اچھا لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرف دیکھے تو یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطيالسي 149»
الحكم على الحديث: حسن
50. -- باب: الفصل بين المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے درمیان فصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا، يَذْكُرُ عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" دَخَلْتُ يَعْنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَالْمَاءُ يَسِيلُ مِنْ وَجْهِهِ وَلِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ، فَرَأَيْتُهُ يَفْصِلُ بَيْنَ الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ". وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ، فِي حَدِيثٍ آخَرَ لِلَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي الْوُضُوءِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، فَأَنْكَرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ، يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: أَيْشْ هَذَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ: قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ لَيْثًا رَوَى عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ وَعَجِبَ أَنْ يَكُونَ جَدُّ طَلْحَةَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَلِيٌّ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ نَسَبِ جَدِّ طَلْحَةَ، فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ كَعْبٍ، أَوْ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ. وَقَالَ غَيْرُهُ: عَمْرُو بْنُ كَعْبٍ لَمْ يُشَكَّ فِيهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسُ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: رَأَى جَدُّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ يَحْيَى: الْمُحَدِّثُونَ يَقُولُونَ: قَدْ رَآهُ، وَأَهْلُ بَيْتِ طَلْحَةَ يَقُولُونَ: لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ.
طلحہ اپنے والد سے، وہ طلحہ کے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے داڑھی اور سینے پر بہہ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلی اور ناک میں پانی الگ الگ ڈالتے تھے۔
یحییٰ القطان نے اس حدیث کو منکر قرار دیا، اور سفیان بن عیینہ نے بھی اس کا انکار کیا اور اس پر تعجب کیا کہ طلحہ کے دادا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، جبکہ طلحہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ انہیں صحبت حاصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
یحییٰ القطان نے اس حدیث کو منکر قرار دیا، اور سفیان بن عیینہ نے بھی اس کا انکار کیا اور اس پر تعجب کیا کہ طلحہ کے دادا کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہو۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: محدثین کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، جبکہ طلحہ کے گھر والے کہتے ہیں کہ انہیں صحبت حاصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابوداؤد 139»
الحكم على الحديث: ضعيف
51. -- باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 235
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِرْمَانِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوَ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَزَادَ حَسَّانُ فِي حَدِيثِهِ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَذَكَرَهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو وہ ناک کو جھاڑے اور جو ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں استعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 159»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَطْلُبَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدًا، فَلَمْ يَلْبَثَا أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَطْعَمَكُمَا أَحَدٌ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ:" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوقار انداز میں چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 143»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 237
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ".
ایک حدیث میں ہے: ”جب تو وضو کرے تو کلی کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 144»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٧⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ". قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُرْسَلًا: لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَظُنُّهُ هُدْبَةَ أَرْسَلَهُ مَرَّةً، وَوَصَلَهُ أُخْرَى، وَتَابَعَهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ حَمَّادٍ فِي وَصْلِهِ، وَغَيْرُهُمَا يَرْوِيهِ مُرْسَلًا. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ لِي أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَلَّالُ، شَيْخٌ لِيَعْقُوبَ بْنِ سُفْيَانَ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے“ کا حکم دیا۔
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 238]
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 238]
حدیث نمبر: 239
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا بُدَّ مِنْهُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ عِصَامٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهِ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ، وَوَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ".
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے۔“
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 239]
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/84»
الحكم على الحديث: ضعيف